خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 335
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۳۵ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء جو بظاہر بڑی اچھی باتیں کرتے ہیں۔سیاست کے متعلق ، سیاسی حقوق کے متعلق ، معاشرہ میں حسن پیدا کرنے کے متعلق اور اقتصادی حقوق کو ادا کرنے کے متعلق بڑی دھواں دھار تقریریں کرتے ہیں۔جن میں حقیقت تھوڑی اور لفاظی زیادہ ہوتی ہے اور پھر یہی نہیں بلکہ وَ يُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا في قلبه “ وہ ساتھ ہی ساتھ قسمیں بھی کھاتے ہیں اور اپنی ہر بات پر خدا تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہیں۔وہ ہر ایک سے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ دیکھو! جس طرح ہماری زبان سے یہ باتیں نکل رہی ہیں اسی طرح ہمارا دل بھی خلوص سے پر ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَهُوَ الدُ الْخِصَامِ “ ایسا شخص سخت جھگڑالو ہوتا ہے۔یہ اس کی خصوصیت ہوتی ہے۔یہ اس کی طبیعت ہوتی ہے جو اس کی لچھے دار تقریروں کے بعد ہر ایک کے سامنے ظاہر ہو جاتی ہے۔اس کے برعکس کوئی بھی شخص جو صلاح چاہتا ہے۔وہ ’ آل تُ الْخِصَامِ “ کے زمرہ میں شامل نہیں ہوسکتا کیونکہ صلاح خلوص اور ایثار پر مبنی ہوتی ہے۔ایسا شخص دوسرے کے جذبات کا خیال رکھتا اور اس کے لئے ہر ممکن قربانی بھی دیتا ہے۔کیونکہ اس قسم کے خلوص اور ایثار کے بغیر باہمی جھگڑے ختم نہیں ہوتے۔مگر جو شخص جھگڑالو ہوتا ہے وہ ایثار کی جڑیں کا تھا ہے۔وہ دوسرے کی ہر بات کو اپنی بے عزتی پر محمول کرتا ہے۔کہنے والے کے ذہن میں وہ بات نہیں ہوتی مگر یہ اس کی بات کو نئے رنگ میں دوسرے لوگوں کے دماغ میں ڈال دیتا ہے۔جس سے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں اشتعال پیدا ہو اور وہ جھگڑا کریں۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ جھگڑے کے نتیجہ میں فساد ہوتا ہے۔صلاح تو پیدا نہیں ہوتی۔پس يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا کی رو سے اس کا دعویٰ تو صلاح کا ہوتا ہے لیکن اس کے قول اور فعل کا تضاد نمایاں ہو کر سامنے آجاتا ہے۔گو بعض چیزیں تو لوگ اپنی منافقت کی وجہ سے چھپا لیتے ہیں۔تا ہم جو چیز چھپائے نہیں چھپتی۔وہ ان کا آلتُ الْخِصَامِ “ ہونا ہے۔وہ ذراذراسی بات پر جھگڑا کرنے لگ جاتے ہیں اور اس سے ان کی اصلیت ظاہر ہو جاتی ہے۔اب آج کل جو سیاسی فساد ہمارے ملک میں رونما ہے اگر آپ اسے غور سے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اس کے پس پردہ آل الْخِصَامِ “ کی خصوصیات کارفرما ہیں۔مثلاً (اورب دو سیاسی