خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 334 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 334

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۳۴ خطبہ جمعہ ۱۱ اگست ۱۹۷۲ء حقوق و واجبات کی اہلیت نہیں۔یا اُنہیں جان بوجھ کر ادا نہیں کیا جا رہا۔تاہم اہلیت نہیں“ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق واجب قرار دیا اور اہلیت پیدا نہیں کی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں اہلیت تو رکھی تھی لیکن اس کی نشو و نما نہیں ہو سکی اور نشو ونما اس لئے نہیں ہو سکی کہ جس شخص کو وہ خدا داد قو تیں ملی تھیں اس نے ان کی نشو نما کی طرف توجہ نہیں کی اور خود گناہگار بنا یا ماحول نے اسے نشو و نما کا موقع نہیں دیا۔اس کے لئے سامان میسر نہیں آسکے۔اس لئے اس کی نشو و نما نہیں ہوسکی۔بہر حال ”فساد کے حقیقی اور بنیادی معنی ادائیگی حقوق کی اہلیت کے فقدان نیز حقوق وواجبات کے ادا نہ کرنے کے ہوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں صلاح“ کے معنے بنیادی طور پر یہ ہیں کہ " حقوق و واجبات کے ادا کرنے کی اہلیت بھی ہو اور حقوق و واجبات ادا بھی کئے جائیں۔غرض فساد اور صلاح کے معنوں پر میں نے پچھلے خطبہ میں بھی مختصر روشنی ڈالی تھی اور بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا فساد کا وہ خوشکن اور حسین نتیجہ نہیں نکلتا جو صلاح کا نکلتا ہے اور جو اس دنیا کو بھی جنت میں تبدیل کر دیتا ہے کیونکہ اگر انسانوں کے حقوق و واجبات ادا نہ ہوں۔اگر انسان انسان کے حقوق پامال کر رہا ہو تو وہ جنت پیدا نہیں ہوسکتی جو اس صورت میں پیدا ہوتی ہے کہ جب ہر شخص کے جو بھی حقوق اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں وہ اس کومل جائیں۔پھر میں نے اپنے گذشتہ خطبہ میں یہ بھی بتایا تھا کہ فطرتی اہلیت یعنی وہ قو تیں اور استعداد یں جو انسان کو دی گئی ہیں وہ حقیقتا اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کے لئے دی گئی ہیں۔صلاح میں ہمیں صفات باری تعالیٰ کا عکس نظر آتا ہے۔فساد اس کے الٹ ہے۔کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابلے پر آتا ہے، اس کے اعمال کا وہ نتیجہ تو نہیں ہو سکتا جو اس شخص کے اعمال کا نتیجہ ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے جس کے اعمال اللہ تعالیٰ کی صفات کی مظہریت کے جلوے دکھا رہے ہوں۔چنانچہ سورہ بقرہ کی ان آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَولُهُ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ، تمہیں دنیا میں ایسے لوگ بھی نظر آئیں گے