خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 302
خطبات ناصر جلد چہارم ٣٠٢ خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۲ء اس قسم کی عظیم کتاب سے انقطاع لسانی یا انقطاع قلبی نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ اس کی حماقت کی انتہا ہو گی جس طرح اسلام حسن و احسان کی انتہا ہے اسی طرح قرآن کریم کو چھوڑ نا انسانی فعل کے لحاظ سے یعنی قرآن کریم کو چھوڑنے کے لحاظ سے حماقت کی انتہا ہے۔حماقت تو تھوڑی بھی نہیں کرنی چاہیے چہ جائیکہ حماقت کی انتہا کر دی جائے۔پس اس قسم کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے۔غرض قرآن کریم سے کما حقہ مستفید ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں اور اس پر غور کرتے رہنا چاہیے اور اس کو حرز جان بنا لینا چاہیے۔اس کو اپنی روح سمجھنا چاہیے تمام تو ہمات کو دور کر کے اس کو اپنے سینے سے لگائے رکھنا چاہیے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے۔بعض مسلمان یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو اپنے ساتھ نہ رکھو شاید تم سو جاؤ اور اس کی طرف تمہاری پیٹھ ہو جائے۔کیا عجیب خیال ہے۔جب تم جاگ رہے ہوتے ہو تو تم نے اسے اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا ہوتا ہے اس کی تعلیم کو قبول نہیں کرتے۔لیکن جب تم سوئے ہوئے ہوتے ہو اور خد تعالی کی گرفت کے نیچے نہیں ہوتے اس وقت تمہیں یہ فکر ہوتی ہے کہ قرآن کی طرف پیٹھ نہ ہو جائے۔یہ خیال تو درست نہیں۔بہر حال اس وقت تو میرے بھائی اور بہنیں، میرے عزیز بچے اور میرے بزرگ میرے مخاطب ہیں میں آپ سب سے یہ کہوں گا کہ قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے یہ بڑی عظمتوں والی کتاب ہے۔اس کتاب کی برکت اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فیض تھا کہ جس نے اُس گمنام شخص کو جو ایک گمنام بستی میں پیدا ہوا تھا اور جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتہائی پیار کیا تھا اس کو اس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روحانی فیض اور قرآن کریم کی برکت نے ساری دُنیا میں معروف و مشہور کر دیا۔چنانچہ پانچ پانچ ہزار میل دور لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہیں جن کے دل میں مہدی معہود علیہ السلام کا پیار سمندر کی لہروں کی طرح اُٹھ رہا ہے۔اس لئے کہ مہدی معہود اور مسیح موعود جو ایک امتی نبی کی حیثیت سے ہماری طرف آئے تھے ان کی بدولت ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسین چہرہ دیکھا اور اُنہوں نے ہمیں پکڑ کر کہا ہے کہ