خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 240

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۴۰ خطبہ جمعہ ۱۶/جون ۱۹۷۲ء اور اس کے ہمیں دو فائدے ہوں گے۔ایک یہ کہ پہلے جائزہ کے وقت جو چیزیں سامنے آئی تھیں اور اب بھول چکی ہیں وہ پھر دوبارہ ہمارے سامنے آجائیں گی اور دوسرے یہ کہ جو نئے معترضین کے گروپ پیدا ہو چکے ہیں۔وہ اب ہمارے سامنے آجائیں گے اور اس کے مطابق ہمیں نئے سرے سے اصلاح وارشاد کے کام کے لئے خود کو تیار کرنے میں مدد ملے گی۔تاہم یہ جو دو گروہ ہیں (یعنی نئے اور پرانے معترضین اسلام ) ان کے متعلق ہمیں قرآن کریم ہی سے تلاش کرنی پڑے گی اور تلاش کرنی چاہیے۔انشاء اللہ ان کے متعلق قرآن کریم ہی سے ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ مختلف گروہ کیسے ہیں۔۔یہ ایک لمبا مضمون ہے آج کا یہ خطبہ اس کی تمہید ہے یا صرف یہی سمجھیں کہ میں آج اس کے بعض عنوان بیان کرنا چاہتا ہوں۔حضرت موسی علیہ السلام کے وقت میں بھی دو ایسے گروہ تھے جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ایک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے منکر تھے اور دوسرے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے منکر بھی تھے یا اللہ تعالیٰ کے منکر تو نہیں تھے مگر آخرت کے منکر تھے۔دراصل جو شخص خدا تعالیٰ کا منکر ہوتا ہے وہ ساتھ ہی آخرت کا منکر بھی ہوتا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں۔خصوصاً یہودیوں میں جن کے متعلق قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ اب بھی ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو پیدا کیا اور اس نے قانون بنا دیئے۔وہ تو اتنی بڑی ہستی ہے۔اسے کیا پڑی ہے کہ زید یا بکر کے حالات کے متعلق ذاتی طور پر دلچسپی لے کر اس کا جو علم ہے اس کے مطابق وہ کام کرے اور احکام دے۔بہر حال بیسیوں غلط دلائل ہیں جو ان کے ذہن میں آتے ہیں مثلاً وہ کہتے ہیں کہ ” پرسنل گاڈ“ نہیں ”ام پرسنل گاڈ ہے، یعنی ایسا خدا نہیں ہے جس کے ساتھ زید یا بکریا میں اور آپ میں سے ہر ایک ذاتی تعلق پیدا کر سکے اور وہ اس کی ذاتی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہو اور اس کی دعاؤں کے نتیجہ میں اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل کرتا ہو۔چنانچہ یہ جو آیت میں نے پڑھی ہے۔جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُمت کا ذکر ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ ہدایت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے۔