خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 6
خطبات ناصر جلد چہارم ۷۰ خطبہ جمعہ کے جنوری ۱۹۷۲ء سی شاخ کے مانند ہے جس طرح آم کی ٹہنی جب نکلتی ہے تو بڑی کمزور ہوتی ہے۔تاہم یہ بیج لگانا ہمارا مقصد ہے تنا تو بعد میں بنے گا، پھل تو بعد میں آئیں گے لیکن آپ نے تو وہ بیچ بھی نہیں اُگا یا۔ستر ، اشی کے اوپر آ کر ٹھہر گئے۔شتر، اشی معلمین وقف جدید کی تعدا داس وسیع منصوبے کے لحاظ سے جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا۔ایک ضلع کے لئے بھی کافی نہیں ہے، ایک تحصیل کے لئے شاید کافی ہو۔وہ بھی شاید ہی ایسا ہوتا ہم سمجھتے ہیں کہ ایک تحصیل کے لئے کافی ہے جس کا سب یہ ہے کہ جو موجودہ کوشش اور جدو جہد اور منصوبہ ہے اس میں اگر ہم مغربی پاکستان ہی کو لے لیں کیونکہ اس وقت مشرقی پاکستان میں ہم نہیں جاسکتے۔( ہم نے مسلم بنگال کو نہ ذہنی لحاظ سے چھوڑا ہے اور نہ عملی لحاظ سے) لیکن موجودہ حالات ایسے رونما ہوئے ہیں کہ ہم وہاں جانہیں سکتے اس لئے اگر ہم وقتی طور پر مغربی پاکستان ہی کو لے لیں تب بھی اس سے ۱۵۲ گنا زیادہ ہماری کوشش ہونی چاہیے تھی کیونکہ پاکستان کے اس مغربی حصے کی کم و بیش ۱۵۲ تحصیلیں ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے کام کا ایک فی صد بھی نہیں کیا بلکہ ہم نے اپنا کام 4 فی صد کیا ہے یہ تو کوئی کام نہ ہوا۔جماعت کو اس وقت میں دو باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس اعلان کے بعد کہ یکم جنوری سے وقف جدید کا نیا سال شروع ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے اور ہمارے عمل میں برکت ڈالے۔جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے اس اعلان کے بعد میں جماعت کو دو باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ایک یہ کہ وقف جدید کے لئے جماعت زیادہ آدمی دے اور اسے جماعت محض وعظ تصور نہ کرے بلکہ وہ ایک سکیم بنائے کہ ہر سال موجودہ معلمین کا دس یا ہیں فیصد دے گی مثلاً اگر فرض کرو اس وقت اشی معلمین وقف جدید ہوں تو جماعت ہر سال آٹھ مزید دے گی۔یہ میں نہیں کہہ رہا کہ جماعت دس فی صد دے یہ تو جو منصوبہ بندی کمیٹی ہے وہ سوچے گی لیکن میں مثال دے رہا ہوں۔شاید اس سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو جائے چلیں میں فی صد کر دیتے ہیں چنانچہ اس لحاظ سے موجودہ اتنی معلمین کی تعداد پر بیس فیصد کے حساب سے سولہ مزید دینے پڑیں گے پھر اگلے سال