خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 223 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 223

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۲۳ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۷۲ء سے بالکل عاری تو ہم اسے نہیں کہہ سکتے ورنہ تو وہ ارتداد اختیار کر کے جماعت سے نکل جائے۔اس کا کوئی پہلو تو ایسا ہوتا ہے جو ہمیں یہ امید دلاتا ہے کہ شاید ہماری تربیت سے اس کا نفاق دور ہو جائے بہر حال وہ اپنے اخلاص) کی کم مائیگی کو دوسروں کے اخلاص کو ماپنے کی کسوٹی بناتا ہے چنانچہ اب بھی اس نے سوچا۔چلو پیشگوئی کر دو کہ جماعت احمد یہ بہت بد دل اور پریشان ہوگئی ہے اور اپنے اس خلیفہ کی نالائقیوں کی وجہ سے بشاشت کھو بیٹھی ہے۔انہوں نے چندوں کا بھی ذکر کیا مجھے بھی رپورٹیں پہنچیں کہ دیکھ لینا اب ان کو پیسے نہیں ملیں گے۔مگر اے منافقو! تم نے یہ بات کرتے وقت اندازہ لگایا تھا دُنیا کے حالات کا لیکن مومنوں کی اس جماعت نے اپنے عمل کی بنیاد اپنے ایمان پر رکھی ہوئی ہے۔اس لئے مومنوں نے کہا یہ تکالیف یہ ابتلاء اور یہ ضرآء تو آتے ہی رہتے ہیں۔ایسے موقع پر مومن کی گردن کٹ تو سکتی ہے لیکن وہ ایک جگہ پر کھڑا نہیں رہا کرتا اور نہ پیچھے ہٹتا ہے۔دراصل منافق ایک مخلص مومن کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔اس لئے اس کی اپنی ذہنیت ،اس کا اپنا دل اور اس کی اپنی روح بنیادی طور پر ایک مومن کی ذہنیت اور اس کے اخلاص اور اس کی روح سے مختلف ہوتی ہے۔پس اے منافقو ! تم نے سمجھا تھا چندوں میں کمی آجائے گی۔مگر مومنوں کی اس جماعت نے کہا چندوں میں کمی نہیں آئے گی۔بلکہ جو وعدے کئے گئے تھے اس سے زیادہ پیش کئے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ جماعت کو میرے درخت وجود کی شاخو! کہہ کر جماعت سے بڑے ہی پیار کا اظہار فرمایا ہے۔میں بھی آج خدا کی حمد سے معمور ہوں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے کو اپنی دُعا کے فقرہ میں شامل کر کے یوں دعائیہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ اے مسیح محمدی اور مہدی معہود علیہ السلام کے درخت وجود کی وہ شاخو جو ثمرات حسنہ سے لدی اور جھکی ہوئی ہو، میرے رب کریم کا تم پر سلام ہو۔“ 66 روزنامه الفضل ربوه ۱۸ جون ۱۹۷۲ ء صفحه ۲ تا ۴)