خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 140
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۴۰ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء بھی ذلیل وخوار ہوا اور جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس کی ذلت ہے وہ تو اس دُنیا کی ذلت سے بھی زیادہ ہے۔ویسے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی بھی چار پائی پر نہیں مرے گا۔یا میری راہ میں شہادت نہیں حاصل کرے گا۔کیونکہ زندگی اور موت تو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے لیکن جہاں تک انسانی زندگی کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ تم اپنی زندگی میں جس نیک مقصد کی خاطر میری راہ میں ثبات قدم دکھاؤ گے اور پیٹھ نہیں پھیرو گے اس مقصد میں کبھی نا کام نہیں ہو گے۔باقی بچے بھی مرجاتے ہیں ملیریا بخار سے بھی ٹائیفائیڈ سے بھی اور سل سے بھی بعض دفعہ ٹھوکر لگتی ہے بچے گرتے ہیں سر پر کسی ایسی جگہ چوٹ لگتی ہے جو جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔پس یہ مرنا تو انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے لیکن جو شخص پیٹھ دکھاتا ہے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔وہ بیٹھ اس لئے دکھاتا ہے کہ اسے ابدی زندگی مل جائے مگر بعض دفعہ وہ پیٹھ دکھا کر اپنے گھر تک نہیں پہنچا ہوتا کہ راستے میں اس کی جان نکل جاتی ہے اگر ایسا کمزور ایمان اور منافق دس گھنٹے اور ایمان پر پختہ رہتا تو وہ جنت میں جاتا لیکن اُس نے آخری دس گھنٹوں میں اپنی ہلاکت کے سامان پیدا کر لئے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اپنے اندر یہ ذہنیت پیدا کر لو تو تم ہر قیمت پر اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہو گے تو میں آسمان سے تمہاری مدد کے لئے فرشتے بھیجوں گا اور وہ تمہارے قدموں کو مضبوط کر دیں گے اور تمہیں اس قابل اور اہل بنا دیں گے کہ تم اپنے وعدہ پر پورے اُتر سکو۔تم نے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ تم پیٹھ نہیں دکھاؤ گے مگر تم بشری کمزوریوں کے ساتھ ہماری مدد کے بغیر اور فرشتوں کے سہارے کے بغیر اپنا یہ عہد پورا نہیں کر سکتے لیکن ہماری مدد یعنی فرشتوں کا جو سہارا ہے وہ تمہیں اس صورت میں مل سکتا ہے کہ اِنْ تَنْصُرُوا الله کی رو سے تم یہ عہد کر لو کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کریں گے یعنی غلبہ اسلام کے لئے جو جد و جہد ہو رہی ہے اور اشاعتِ اسلام کے لئے جو بڑی اہم تحریک شروع ہوئی ہے۔ہم اس میں حصہ لینے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے اور کسی چیز کی پرواہ نہیں کریں گے خواہ کچھ ہو جائے