خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 139 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 139

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۳۹ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء محسن اس کے قول کے ذریعہ ظاہر ہوا اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو حسن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کے ذریعہ ظاہر ہوا۔اس میں یعنی ان دو خوبصورتیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔پس اس سے یہ ظاہر ہوا کہ تم نے دوسروں کے متعلق نیکی کی باتیں بھی کرنی ہیں اور نیک باتیں بھی کرنی ہیں تم نے دوسروں کے متعلق بری باتیں نہیں کرنی۔تم نے اطاعت کا کامل نمونہ دکھانا ہے۔تب تم اِنْ تَنْصُرُوا اللہ کی بنا پر اس گروہ میں شامل ہو سکتے ہو جو يَنْصُرُكُمْ وَ يُثبت اقدامکم کا مصداق ہے۔کیونکہ تم نے خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کے لئے ایک ایسا عزم کر لیا۔ایک ایسا عہد کر لیا۔ایک ایسی نیت کرلی اور ایک ایسا ارادہ کر لیا ہے جو تمہاری ساری زندگی کے ارادوں پر محیط ہو گیا ہے۔تمہارا کوئی ارادہ اس سے باہر نہیں رہا۔تم نے یہ پختہ عزم کر لیا کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے باہر نہیں جائیں گے ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں آگے بڑھیں گے، پیچھے نہیں ہٹیں گے۔جو تکالیف سامنے آئیں گی ہم ان سے بچنے کی کوشش نہیں کریں گے جو روکیں پیدا ہوں گی ہم ان کو پھلانگیں گے یا ان کو پرے ہٹا دیں گے۔اس لئے تم میں سے کسی کا یہ کہنا کہ جی روک پیدا ہوگئی ہے۔راہ میں کانٹے بچھ گئے ہیں پاؤں زخمی ہوتے ہیں دل دُکھتے ہیں سینہ چھلنی ہوتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ چھلنی ہو نے دو کیونکہ تم نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ خواہ کچھ ہو جائے تم خدا کی راہ میں قربانیوں سے منہ نہیں پھیرو گے اور پیٹھ نہیں دکھاؤ گے۔میں نے کئی دفعہ کہا ہے اور میں یہ بات بڑی سنجیدگی سے کہتا رہا ہوں اور اسے اب بھی دُہرا دیتا ہوں کہ اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے تم سے یہ وعدہ نہیں کیا کہ (جب تم خدا کے دین سے پیٹھ پھیر لو گے تو وہ تمہاری پیٹھوں کی حفاظت کرے گا۔اللہ تعالیٰ نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہارے سینوں کی حفاظت کرے گا۔چنانچہ مسلمانوں کی تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جب بھی دشمن اسلام کے سامنے دعوی اسلام کرنے والے کی پیٹھ آئی اسے چھید دیا گیا اور جب بھی دشمن اسلام کے سامنے ایک مسلمان مومن کا سینہ آیا اور اس کا چہرہ سامنے آیا اور اس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو دشمن نا کام اور ذلیل ہوا۔وہ اس دُنیا میں