خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 124
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۲۴ خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور وہ اُن سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ان کو تسلی دلاتے ہیں کہ بے شک تم بشر ہو اور تم سے بعض کمزوریاں سرزد ہوں گی بایں ہمہ غم نہ کرو۔تم سمجھتے ہو کہ تمہارا مخالف بڑا طاقتور ہے مگر خدا تعالیٰ سے تو کوئی شخص زیادہ طاقتور نہیں ہے۔اس لئے تم اپنے دل میں کوئی خوف نہ لاؤ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ حزن نہ کوئی غم ہوتا ہے اور نہ اندیشہ۔وہ نہایت بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ جب اُن کا کوئی دشمن یا مخالف یہ سمجھتا ہے کہ اُس نے اُن پر انتہائی سخت وار کیا ہے۔تو خدا کے یہ بندے سمجھتے ہیں کہ انہیں سب سے زیادہ سرور کے سامان مل گئے۔وہ اس مخالفت سے روحانی طور پر ایک لذت حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔پس الہی سلسلوں پر بالعموم اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں امت محمدیہ پر بالخصوص اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے بڑا فضل اور رحم نازل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے طفیل اپنے فضل سے نوازا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو محبت کی ہے اس سے بڑھ کر کسی سے نہیں کی۔چنانچہ اس محبت کا یہ کرشمہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا تم اس وجود سے محبت کرو گے تو میری محبت کو پالو گے۔غرض اس محبت کے طفیل اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ملتی ہیں۔پس در اصل امت محمدیہ اولیاء کی اُمت ہے۔اس میں بڑی کثرت سے ولی اللہ پیدا ہوئے ہیں۔اب بھی پیدا ہور ہے ہیں اور انشاءاللہ قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ امت محمدیہ میں ایک ایک وقت میں ہزاروں اولیاء اللہ پیدا ہوتے رہے ہیں لیکن ایک بات جو آپ کو کبھی نہیں بھولنی چاہیے اور جس کے متعلق خلفاء کو یاد دہانی کرواتے رہنا چاہیے۔مجھ سے پہلوں نے بھی یاد دہانی کروائی ہے اور آج میں بھی کروانا چاہتا ہوں اور وہ یہ بات ہے اور بڑی ہی اہم بات ہے کہ امت محمدیہ میں ولایت جاری ہے۔ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بڑے اولیاء اللہ پیدا ہوتے رہے ہیں۔آج ہماری جماعت