خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 114
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۱۴ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء اسلام کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے اظہار کے لئے اُن کا پیار اتنا جوش مارتا ہے کہ دوسرے سارے پیار اس نئے اور حقیقی پیار کی لپٹوں میں جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں۔مگر اے جاہلو! تم اُن کے متعلق یہ کہتے ہو کہ اُن کے وجود سے ربوہ آماجگاہ بن گیا ہے غیر فطری فعلوں اور مردوزن کے ناجائز تعلقات کی۔تم نے ان کو پہچانا نہیں۔تمہاری نگاہیں ان کی نبض پر نہیں ہیں۔تم نہیں جانتے کہ وہ کس مٹی سے بنے ہیں۔تمہیں کیا پتہ کہ وہ خدا کے اس شیر کو ماننے والے ہیں جس نے ساری دُنیا کی مخالفتوں کے باوجود یہ اعلان کیا تھا کہ میری فطرت میں نا کامی کا خمیر نہیں ہے۔پس میرے اس بھائی اور میری اس بہن کی فطرت میں بھی ناکامی کا خمیر نہیں ہے۔اُن کے کانوں میں تمہاری آواز تو گیڈر کی اس آواز سے بھی زیادہ حقیر نظر آئے گی جو کبھی کبھی رات کے وقت ہمارے کانوں میں آتی ہے۔بزدل اور منافق گیدڑ و! تمہاری آواز تو اُن کے کانوں میں کتوں کے بھونکنے کی اس آواز سے بھی زیادہ قابل نفرت محسوس ہوگی جو کبھی رات کے اندھیروں میں ان کے کانوں میں پڑتی ہے۔تم نہیں جانتے ہاں تم نہیں جانتے کہ یہ کس قسم کی قوم ہے اور کتنی طاقتور ہے اور اس کی طاقت کا کونسا منبع ہے۔یہ کتنی فدائی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور کتنی محبوب ہے آپ کے روحانی فرزند مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی۔تم کیا پہچا نو اس پیارے وجود کو جسے ہم جماعت احمد یہ کہتے ہیں تم سوچ سمجھ کر قدم اُٹھانا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسا شخص جس کی ہم نے ابھی پوری طرح تربیت نہیں کی بوجہ نوجوان ہونے کے یا بوجہ نئے احمدی ہونے کے ایسا کام کر بیٹھے جو ہمارے لئے ملامت اور تمہارے لئے دنیوی لحاظ سے تباہی کا باعث بن جائے۔روحانی لحاظ سے تو تم خود اس گڑھے میں گرے ہو جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس سے نیچے اور کوئی گڑھا نہیں۔تم ہاتھوں کو اٹھار ہے اُن لوگوں کی طرف جن کی دعائیہ پرواز خدا تعالیٰ کے عرش تک پہنچتی اور اُسے بھی ہلا دیتی ہے۔تم جہنم کے گڑھوں میں رہنے والے ان بلند پرواز کرنے والے وجودوں تک کہاں پہنچ سکتے ہو۔پس تم عقل سے کام لو۔عقل سے کام لو۔عقل سے کام لو۔از رجسٹر خطبات ناصر۔غیر مطبوعہ )