خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 106
خطبات ناصر جلد چہارم ١٠٦ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء رہا بلکہ میں بڑے پیار سے ایک بات کہہ رہا ہوں۔مجھے ایک دن بڑا دکھ پہنچا۔ایک دوست تھے اُنہوں نے مجھے چٹھی لکھی گرمیوں کے دنوں میں وہ ملاقات کے لئے آئے تھا۔اُنہوں نے لکھا کہ میں ملاقات کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا ( دوست اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے دعا کرتے رہتے ہیں ) مجھے پیاس لگی اور میں پرائیویٹ سیکرٹری (جو اُس وقت تھے۔امام رفیق نہیں تھے۔نماز کے بعد ان کے پیچھے نہ پڑ جائیں) کے کمرے میں گیا اور اُن سے کہا کہ مجھے پیاس لگی ہے تو وہ بڑی رعونت سے مجھے یہ کہنے لگے کہ فلاں کمرے میں پانی کا گھڑا رکھا ہوا ہے۔وہاں جا کر پی لو۔اُنہوں نے لکھا ہے کہ میں ایک پرانا احمدی ہوں پانی کیا چیز ہے ہم احمدیت کی خاطر جانیں بھی دینے کے لئے تیار ہیں۔میں نے بالکل محسوس نہیں کیا لیکن بعض غیر احمدی آتے ہیں نئے احمدی آتے ہیں بعض نو جوان آتے ہیں جن کی پوری تربیت نہیں ہوتی۔اس لئے کسی کو ٹھوکر نہ لگ جائے آپ ان کو سمجھا دیں۔میں نے بڑا استغفار کیا۔میں نے کہا میں اس کا ذمہ دار ہوں۔پھر میں نے دفتر سے کہا مولوی ابوالعطاء صاحب اس بات کے گواہ ہیں۔میں نے ان کو بھی بلا کر کہا کہ یہ جو چائے اور گرمیوں میں شربت اور ٹھنڈا پانی ہے اس کا میں ذمہ دار ہوں۔جماعت ذمہ دار نہیں ہے۔اس لئے آپ یہ انتظام کریں۔میرے پاس وقت اتنا نہیں ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ میں جب کام کروایا کرتا ہوں اسی طرح کروایا کرتا ہوں۔غرض میں نے اُن سے کہا کہ میرے پاس بالکل وقت نہیں ہے کہ میں آپ سے حساب کیا کروں۔آپ یہ پیسے لیں جب یہ ختم ہو جا ئیں تو مجھ سے اور لے لیں مگر یہ نہ کہیں کہ فلاں چیز پر یہ خرچ ہوا اور فلاں پر یہ خرچ ہوا۔بس یہ کہیں کہ اتنے پیسوں کی ضرورت ہے وہ میں دے دیا کروں گا۔چنانچہ اس وقت سے یہ انتظام چل رہا ہے۔اور یہ میرا اپنا انتظام ہے صدر انجمن احمد یہ کانہیں یہ جماعت کے ساتھ میرے پیار کا نتیجہ ہے اگر آج انجمن مجھ پر زور دے کہ یہ انتظام اس کے حوالے کر دیا جائے تو میں یہی کہوں گا کہ نہیں میں خود ہی ی انتظام کروں گا۔پھر وہ جو مقرر کیا گیا تھا اس کے متعلق بھی میں بڑے دُکھ کے ساتھ اور اپنی فطرت کے خلاف بات کرنے پر مجبور ہوا ہوں۔جتنا میں نے شوریٰ کا اور آپ کا دل رکھنے کے لئے منظور کر