خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 105
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۰۵ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء اس کی نابینائی ( جس کے متعلق قرآن کریم میں ”عی “ کہا گیا ہے) کی نسبت منافق زیادہ اندھا ہے۔لیکن ہم یہ روحانی طور پر کہہ سکتے ہیں جسمانی طور پر نہیں کہہ سکتے۔روحانی طور پر صرف آنکھیں ہی نہیں بلکہ اور بہت سارے روحانی حواس ہیں جو انسان کو بینا اور صاحب فراست بناتے ہیں۔غرض جہاں تک موجودہ خلیفہ کے الاؤنس کا تعلق ہے شروع میں میں نے کوئی الاؤنس نہیں لیا پھر شوری ہوئی اور اُس نے اپنے ایک اجلاس میں اڑھائی ہزار روپیہ مقرر کیا جس میں میں موجود نہیں تھا۔نہ اس اجلاس سے پہلے نہ اس وقت اور نہ اس کے بعد۔میں تو جماعت سے یہ کہہ ہی نہیں سکتا نہ آج اور نہ مرتے دم تک کیونکہ یہ تو میری فطرت اور میرے مقام کے خلاف ہے کہ میں جماعت سے یہ کہوں کہ مجھے اتنے پیسے چاہئیں۔آپ ہی اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ اڑھائی ہزار روپے تنخواہ اور مہمان آتے ہیں اُن کا الاؤنس اور نوکر اور پتہ نہیں اور کیا کچھ تھا۔چنانچہ شوریٰ کا ایک نمائندہ وفد میرے پاس آیا۔مرزا عبدالحق صاحب اُن کے سپوکس مین تھے۔وہ زندہ ہیں اگر میری بات کا اعتبار نہ آئے تو اُن سے جا کر پوچھ لو۔اُنہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے۔میں نے کہا مجھے یہ منظور نہیں ہے۔مجھے اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔میں یہ لینا نہیں چاہتا۔وہ مجھے کہنے لگے کہ پہلے دو خلفاء نے بھی نہیں لیا اور آپ بھی نہیں لیں گے تو بعد میں آنے والوں میں سے جن کو ضرورت ہوگی وہ یہ سمجھیں گے کہ تیسرے خلیفہ نے بھی نہیں لیا تھا کیونکہ اس کے دماغ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ پہلے دو خلفاء نے نہیں لیا تھا اس لئے خلیفہ وقت کو الا ؤنس نہیں لینا چاہیے اور کہیں گے کہ پھر تیسرے خلیفہ نے بھی نہیں لیا۔جب تین خلفاء نے نہیں لیا تو اب چوتھا کیوں لے اور اگر چوتھا نہ لے تو پھر پانچواں کیوں لے۔اس لئے آپ یہ لے لیں۔میں نے کہا۔اچھا! اگر یہ بات ہے تو تم نے یہ جو مہمان نوازی کے اور نوکروں وغیرہ کے اور بھی پتہ نہیں کیا کچھ تھا مجھے صحیح یاد نہیں نہ میں نے اس طرف توجہ دی اس کا تو سوال ہی کوئی نہیں۔باقی آپ کہتے ہیں تو آپ کا دل رکھنے کے لئے اڑھائی ہزار روپے ماہانہ کے متعلق آپ کا فیصلہ مان لیتا ہوں۔اب جو ملاقاتوں والے دن مہمان نوازی کی جاتی ہے اور یہ میں کسی پر احسان نہیں جتا