خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 54
خطبات ناصر جلد سوم ۵۴ خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۷۰ء کی تربیت حاصل کرے اور وہ رنگ ان کے اوپر چڑھ جائے کہ جو اللہ تعالیٰ کو پیارا ہے اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گرفت بڑی سخت ہوتی ہے۔پس یہاں کے جو ادارے ہیں انہیں آج میں تنبیہ کرنا چاہتا ہوں مثلاً تعلیم الاسلام کا لج ہے اس کا تعلیمی معیار بھی گر گیا ہے اور اخلاقی معیار بھی وہ نہیں رہا جو ہونا چاہیے۔دیر کی بات ہے کالج کے ایک طالب علم کے متعلق ایک محلہ میں شکایت پیدا ہوئی سارا محلہ اکٹھا ہوکر اسے میرے پاس پکڑ لایا۔میں اس زمانے میں پرنسپل تھا مجھے بہت خوشی ہوئی کہ بیدار جماعت ہے محلے میں ذراسی غلط بات جو ہوئی ہے تو انہوں نے اس کو برداشت نہیں کیا چنانچہ میں نے سب کے سامنے اس بچے کو بہت سخت سزا دی اس طرح محلے والوں کو بھی یہ تسلی ہو گئی کہ ہماری فضا کو پاک رکھا جائے گا اور سارے ربوہ میں بھی پتہ لگ گیا کہ ایسی حرکت برداشت نہیں کی جاتی۔نوجوانی کی عمر میں بچے حماقت کرتے ہیں ان کو یہ پتہ لگ گیا کہ یہاں حماقت سے نہیں عقل اور ہوش مندی سے زندگی گزاری جا سکتی ہے حماقتیں جو ہیں ان کا محاسبہ ہو گا جب تک اس قسم کی فضا نہ پیدا کی جائے کہ ہم گندگی کو اور بد اخلاقی کو خواہ وہ کسی نوعیت کی ہو برداشت نہیں کریں گے اور بداخلاقی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق کے بغیر کوئی اور خلق اپنا نا یا پسند کرنا یا اپنے ماحول میں پیدا کرنا یا برداشت کرنا ) اللہ تعالیٰ کی صفات کے جو جلوے اس کی اس مخلوق میں ظاہر ہو رہے ہیں وہی جلوے اس کے بندوں میں اور ان بندوں کے ذریعہ دوسرں میں ظاہر ہونے چاہئیں۔پس اگر ہر ایک کو یہ پتہ ہو کہ یہاں وہ خلق پسندیدہ نہیں سمجھا جائے گا اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے خلق سے مختلف اور اس کی ضد ہے تو کتنا بیوقوف کوئی نوجوان ہو اس کا دماغ بڑی جلدی اس چیز کو سمجھ لے گا اور پھر کوئی شکایت نہیں پیدا ہوگی۔ایک دفعہ کالج کی بات ہے باہر کسی کالج میں (یعنی ہمارا احمدیوں کا کالج نہیں ) لڑائی ہوئی پستول چلے کچھ مارے گئے لڑکے گھبرائے کہ جو دشمن ہیں جب ان کو موقع ملا تو وہ ہمارے اوپر اسی طرح وار کریں گے اس قسم کا ایک طالب علم آگیا کہ میں نے Migration (مائیگریشن) کروانی ہے میں آپ کے کالج میں آنا چاہتا ہوں مجھے چونکہ اس سارے واقعہ کا پہلے سے علم ہو چکا تھا۔