خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 555
خطبات ناصر جلد سوم ۵۵۵ خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۷۱ء جو شخص سورج کی شعاعوں میں بیٹھتا ہے وہ شاید ایک کی بجائے دو گولیاں وٹامن کی کھا لیتا ہے پس یہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے جلوے ہیں لیکن اُس کی صفت رحیمیت کا جلوہ ، کچھ کر کے حق دار بنے پر منحصر ہے یعنی صفت رَحِيْمِيَّتُ اور ملِكِ يَوْمِ الدِین ہونے کا جو جلوہ ہے یہ تب ہی ملے گا جب عمل صالح ہو گا اور یہ جو جہاد ہے اور یہ جو ایک ابدی جنگ اسلام کی شوکت کو قائم رکھنے کی ہمارے سامنے رکھی گئی ہے اس کا تعلق عمل صالح سے ہے۔اس کے نتیجے میں ہم اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے جلوے دیکھتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کا جلوہ عمل صالح کے بغیر ظاہر ہو ہی نہیں سکتا۔پس ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو باہنا چاہیے اور یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اور ہماری نسلیں اُس وقت تک ایک لحظہ کے لئے بھی چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک کہ ہماری چھنی ہوئی دولت ہمیں واپس نہ مل جائے اور یہ مشرقی پاکستان تو ایک چھوٹی سی دولت ہے جو ہم سے چھن گئی ہے۔ہماری دولت ساری دنیا ہے۔ہم نے ساری دنیا کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیر سے چھینا اور شیطان کے قبضہ سے نکالنا ہے۔ہم نے ساری دنیا کے دلوں کو خدا تعالیٰ کے نام پر اور اس کی محبت کے لئے جیتنا ہے۔ہم ہار نہیں سکتے اور نہ ہارنے کا کوئی خیال دل میں لانا چاہیے۔جنگوں میں وقتی طور پر پریشانیاں آتی ہیں یہ نظارے تو ہمیں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی نظر آتے ہیں اور اس وجود سے زیادہ پیار خدا تعالیٰ کس سے کرتا ہے۔پس یہ وقتی طور پر جو پریشانیاں آتی ہیں یہ خدا تعالیٰ کے پیار کی نفی نہیں کرتیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حسین تر پیار کے جلوؤں کے سامان پیدا کر رہی ہوتی ہیں اگر کوئی خود کو ان کا مستحق بنائے۔۔یہ جلوے ہمیں قرونِ اولیٰ میں نظر آئے اگر کوئی آج بھی خود کو اہل بنائے تو وہ جلوے آج بھی اسے نظر آئیں گے۔اس لئے گھبرانے کی بات نہیں۔۱۹۴۷ء میں ہماری جماعت کا وہ حصہ جو وہاں سے ہجرت کر کے آیا تھا وہ اسی قسم کے خطرناک دور سے گزرا ہے۔سب کچھ وہاں چھوڑ دیا تھا اور خدا تعالیٰ نے یہاں اُس سے بہت زیادہ دے دیا جو چھوڑ کر آئے تھے۔میرے کئی زمیندار دوست جو میرے ساتھی یا شریک کار ہیں، کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے (اپنے زمانہ خلافت