خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 554
خطبات ناصر جلد سوم ۵۵۴ خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۷۱ء کر سکتے ہیں جب ہم حقیقی طور پر ان کے وارث بنیں اگر ہم ایثار، قربانی، توگل اور فدائیت کے ورثہ کوٹھکرا دیں تو ورثہ میں آئے ہوئے وعدوں کو ہم کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ یاد رکھیں کہ ہمارے پاس پہلے ورثہ پہنچا قربانی کا ، ایثار کا، پہلے ہمارے پاس ورثہ پہنچا شجاعت کا ، پہلے ہمارے پاس ورثہ پہنچا نڈر ہو جانے کا ، اور وہ اس وجہ سے کہ ہمارے پاس پہلے ورثہ پہنچا خدا تعالیٰ پر توکل کرنے کا اور خدا تعالیٰ کے علاوہ اور کسی سے نہ ڈرنے کا۔جب ہم نے یہ ورثے حاصل کر لئے تو اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوئے۔اب بھی ہم اگر اس ورثہ کوٹھکرا ئیں نہ بلکہ قیمتی متاع سمجھ کر اپنے سینہ سے لگائے رکھیں تو خدائی وعدوں کا ورثہ ہم تک پہنچتا ہے اور اس کی بشارتیں ہمارے حق میں پوری ہوتی ہیں ورنہ نہیں۔خدا نہ کرے کہ ان بنیادی ورثوں کو ہم دھتکار دیں ( نعوذ باللہ ) پھر تو بشارتوں کے حصول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن وہ بنیادی ورثہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولا دکو اپنے آبا ؤ اجداد سے جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد چکر لگا کر ہر چیز قربان کر کے اسلام کے غلبہ کے لئے قربانیاں دی تھیں یعنی وہ قربانی ، وہ جذبہ، وہ ایثار، وہ جہاد کا ولولہ اور شوق اور وہ جان کو کچھ نہ سمجھنے کا عزم اور وہ خدا تعالیٰ ہی پر تو گل کرنا اور کسی غیر کی طرف توجہ نہ کرنا ہے۔جب یہ ورثے ہمیں مل جائیں گے اور ہم خود کو اس کا اہل بنائیں گے تو خدا تعالیٰ کے وعدے ضرور پورے ہوں گے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم اپنے اندر یہ صفات پیدا کر لیں اور پھر خدائی وعدے پورے نہ ہوں لیکن اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو نہ نبا ہیں تو رحیم خدا سے ہم یہ کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ جو قربانیوں سے تعلق رکھنے والے وعدے ہیں وہ پورے ہو جا ئیں گے۔ہمارا خدا رحیم ہے وہ ہمیں عمل صالح کی جزا دیتا ہے اگر انسان کا عمل صالح نہ ہو تو رحیم خدا کے وعدے پورے نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی بنیادی صفت رحمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوا تو بنا دی اور سورج کی شعاعیں بنا دیں اور سورج کی شعاعوں میں وٹامنز بنا دیں۔بہت سارے لوگوں کو اس کا پتہ نہیں وہ شیشی کھول کر وٹامن کی گولی کھا لیتے ہیں یعنی وٹامن اے، بی ہی مختلف نام ہیں مگر یہ جو سورج کی کرنیں ہیں خدا تعالیٰ نے ان کے اندر وٹامن رکھے ہوئے ہیں۔