خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 534
خطبات ناصر جلد سوم ۵۳۴ خطبہ جمعہ ۲۶ نومبر ۱۹۷۱ء رہے اس کے خلاف کچھ نہیں کرنا۔جو TREASON (ٹریزن) کرنے والا ہے اس کو TREASON (ٹریزن) کی سزاملنی چاہیے۔جو بھلا مانس ہے اسے حقوق دینے چاہئیں مگر باغی کا صرف یہ حق ہے کہ اس کو پکڑ کر فساد سے روک دیا جائے۔بہر حال دنیا میں انہوں نے بڑا شور مچایا اور بہت پرو پیگنڈا کیا۔باہر کے اخبار ہمارے مخالف ہو گئے۔غیر ملکی حکومتوں کو بھی یہی سمجھ آرہا تھا کہ شاید پاکستان ہی اس مسئلے کا ذمہ دار ہے۔مگر ابھی پچھلے چند دنوں سے دنیا کی آنکھیں کھلنی شروع ہوئی ہیں۔ہماری حکومت نے بڑا اچھا کیا ہے غیر ملکی صحافیوں کو محاذ جنگ پر لے جا رہے ہیں۔کہتے ہیں یہ دیکھ لو وردیوں کے اندر پاکستان پر حملہ آور بھارتی جو لاشیں چھوڑ گئے ہیں وہ کتی فوج کی ہیں یا فلاں بھارتی برگیڈ یا فلاں فلاں بھارتی ڈویژن کی ہیں۔یہ ان کے ہتھیار ہیں ان کو بھی دیکھ لو۔اب انہوں نے رپورٹیں کرنی شروع کی ہیں چنانچہ بی بی سی جو اس سے پہلے ایک لفظ بھی معقولیت کا نہیں کہا کرتا تھا ( میں تو اس کی خبریں نہیں سنتا کسی نے مجھے بتایا ہے کہ ) کل اس نے کہا ہے کہ یہ جو کتی فوج ہے ان کے پاس ہوائی جہاز کیسے آگئے ؟ ان کے پاس ٹینک کیسے آگئے ؟ اب انہوں نے (یعنی بی بی سی والوں نے ) کہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں (ابھی وہ ہزاروں تک آئے ہیں ڈویژن پر آجائیں گے دو چار دن میں ) بھارتی فوج پاکستان کے اندر گھس کر حملہ کر رہی ہے۔اسی طرح ان کے اخباروں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ظالم اور حملہ آور بھارت ہے۔لیکن یہ آپ یاد رکھیں کہ اگر سارا بھارت ( خدا نہ کرے) دومنٹ کے لئے بھی پاکستان کی سرحدوں کے اندر داخل ہو جائے اور بھارت کے اندر کوئی شخص بھی نہ رہے ( میں نے یہ فرض کیا ہے عملاً تو ہو نہیں سکتا ) پھر بھی اندرا گاندھی نے یہی کہنا ہے کہ ہمارا کوئی آدمی پاکستان کی حدود کے اندر نہیں گیا۔اندرا گاندھی اور اس جیسے دماغوں کے لئے بھی ہم دعا کرتے ہیں کیونکہ اسلام نے ہمیں کسی سے دشمنی نہیں سکھائی۔ہم دعا کرتے ہیں کہ جو غلط راہیں وہ اختیار کر رہے ہیں جو غلط بول وہ بول رہے ہیں جو غلط خیالات اُن کے دماغوں میں ہیں۔جن غلط اعمال کا مظاہرہ وہ ہماری سرحدوں پر کر رہے ہیں ، ان غلطیوں سے بچنے کی اور اپنی اصلاح کرنے کی اللہ تعالیٰ ان کو تو فیق عطا فرمائے