خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 530 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 530

خطبات ناصر جلد سوم ۵۳۰ خطبہ جمعہ ۲۶ نومبر ۱۹۷۱ء اس کے بعد فرمایا:۔یہ مضمون تو بہت لمبا ہے اور میری صحت پوری طرح ٹھیک نہیں ہے لیکن اس مضمون کو جلد بیان کرنا بھی حالات کا تقاضا تھا، اس لئے آج میں اس کی ابتداء کر دیتا ہوں اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا اور جیسا بھی اللہ تعالیٰ نے سمجھایا اس کی تفصیل اگلے خطبہ یا خطبوں میں بیان کر دوں گا۔ان آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے بنیادی طور پر جو بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی اور آپ کے بعد اُمت مسلمہ پر بھی ایسے حالات بعض دفعہ آتے رہے ہیں اور آجاتے ہیں کہ جب دنیا کے سب حیلے جاتے رہتے ہیں۔دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی ماڈی سامان نظر نہیں آتا اور دشمن ہر طرف سے جمع ہو کر حملہ آور ہو جاتا ہے چنانچہ وہ مسلمانوں کے ایک گروہ یا ایک ملک کو گھیر لیتا ہے اور ظاہری اسباب کے فقدان کے نتیجہ میں دو چیزیں نمایاں ہوتی ہیں۔پہلی چیز منافق کا نفاق اور دوسری چیز ایک مومن کا حسن اور حسن ایمان۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان حالات میں بھی ہم نے تمہارے لئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ایک نمونہ بنادیا ہے۔جب عرب قبائل روساء مکہ کے ساتھ شامل ہو کر اسلام کو مٹانے اور ( بزعم خود ) مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے مدینہ کے گرد جمع ہو گئے تھے۔احزاب سے پہلے جو جنگ ہوئی تھی ، اس میں کم و بیش پندرہ سو مسلمان شامل ہوئے تھے۔دوسال کے بعد جب کفار مکہ نے مدینہ کو گھیر لیا۔اُس وقت منافقین کو شامل کر کے قریباً تین ہزار مسلمان تھے۔اُحد کی جنگ کے موقعہ پر تین سو سے کچھ زیادہ ہی منافقین واپس آگئے تھے۔سارے منافق تو شامل نہیں ہوئے تھے۔اس واسطے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ تین ہزار مسلمانوں میں جو احزاب کے موقع پر اسلام کی حفاظت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے دفاع کے لئے باہر میدان میں جمع ہوئے تھے اُن میں پانچ چھ سو منافقین ہوں گے۔اس لئے اڑھائی ہزار کے قریب مخلص مومن سمجھنے چاہئیں جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے تھے اور لشکر کفار دس ہزار کی تعداد میں تھا جو قریباً تمام عرب کے بڑے بڑے قبائل کی نمائندگی کر رہا تھا اور تمام روساء مکہ