خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 525 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 525

خطبات ناصر جلد سوم ۵۲۵ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء کیا تھا اور وہ پورے کا پورا ادا کر دیا ہے۔ان کو بھی دعاؤں میں یا درکھیں اور جنہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ان کو بھی دعاؤں میں یا درکھیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی توفیق عطا فرمائے مالی لحاظ سے بھی اور اخلاص کے لحاظ سے بھی کہ وہ بھی جلدی اپنے اپنے وعدوں کو پورا کریں۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے تعلق کی پختگی صرف نو جوانی کی عمر سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ انصار اللہ کی عمر سے بھی تعلق رکھتی ہے۔شاید کوئی شرمائے کہ وہ دھیلے سے آگے نہیں بڑھ رہے تھے۔انصار اللہ کا چندہ ایک دھیلہ فی روپیہ ہے۔اُس وقت بھی دھیلہ تھا جب روپے کے چونسٹھ پیسے تھے اور اس وقت بھی دھیلہ ہے جبکہ روپے کے یک صد پیسے ہو گئے ہیں۔بہر حال خلیفہ وقت کا کام سہارا دینا بھی ہے اس لئے میں نے سہارا دے دیا اور انصار اللہ کے چندے کی جو شرح ہے وہ میں نے دھیلے سے بڑھا کر پیسہ کر دی ہے اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ سب کو بھی جن کی عمر زیادہ ہے اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس عمر میں تو ہمیں زیادہ فکر ہونی چاہیے۔یا تو یہ ہو کہ انصار اللہ کے جو کام ہیں اُن کی ضرورت نہیں رہی۔خدام جن کے پاس کبھی پیسہ اکٹھا ہی نہیں ہوتا تھا اور انصار سے مانگ مانگ کر ہم اپنی ضرورتیں پورا کیا کرتے تھے مگر اب یہ ہے کہ اُن کا چندہ انصار سے کئی گنا زیادہ ہو گیا ہے اس کی ایک وجہ تو میں نے پہلے بتائی تھی کہ پچھلی پود کثرت سے جوانی کی طرف بڑھ رہی ہے۔اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اگر جماعت کی تعداد وہی رہتی تو پھر تو یہ شکل نہ بنتی لیکن آج سے تیس سال پہلے جو نسبت انصار اور خدام کی تعداد میں تھی آج وہ نسبت نہیں ہے۔صحیح طور پر تو مجھے علم نہیں اور نہ کبھی اس قسم کی مردم شماری ہوئی ہے لیکن اگر فرض کر لو تیس سال پہلے پچاس فی صد احمدی نوجوان یعنی پندرہ سال سے اوپر کی عمر کے خدام میں شامل تھے تو پچاس فیصد انصار میں شامل تھے مگر آج تیس سال کے بعد یہ شکل نہیں رہی۔آج یہ شکل ہے کہ تیس فیصد انصار میں شامل ہیں اور ستر فیصد خدام میں شامل ہیں کیونکہ پیچھے سے اللہ تعالیٰ کے فضل کا ایک بڑا ریلا آ رہا ہے۔ہم ہر لحاظ سے بڑھ رہے ہیں۔نئے نوجوان احمدی ہو رہے ہیں اور ہماری احمدی بہنیں بہت بچے پیدا کر رہی ہیں۔وہ بیچاری تکلیف اُٹھا کر یہ قربانی دے رہی ہیں خدا کرے وہ بھی اور زیادہ قربانی دیں۔