خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 519
خطبات ناصر جلد سوم ۵۱۹ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء پس وَلَا رَهَقًا میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خواہ تم کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہو یا کسی بھی زمانہ میں پیدا ہوتے ہو قرآن کریم کی شریعت پر عمل کر کے کم علمی کے نتیجہ میں تمہیں نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ قرآن کریم تو تمہارے سامنے علم کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔تم مطہر بنو قرآن کریم کے علمی خزانوں کی چابیاں تمہارے ہاتھ میں دے دی جائیں گی پھر تم اس سے فائدہ اُٹھانا۔تمہیں جہالت کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔ویسے انسان تو بڑا عاجز ہے اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔میں نے اپنے اس مختصر سے زمانہ خلافت میں دو دفعہ باہر کے دورے کئے ہیں۔ان دونوں موقعوں پر عیسائی پادری اور دوسرے صحافی ملاقاتوں اور پریس کانفرنسوں میں سوال کرتے تھے جن میں بعض سوال ایسے بھی ہوتے تھے کہ نہ آپ نے پہلے کبھی سنے اور نہ میں نے سنے ہوتے اور میرے ساتھی بھی گھبرا جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خود ہی ایسا جواب سکھا دیتا تھا کہ جسے سُن کر وہ خاموش ہو جاتے تھے۔بعض دفعہ بول بھی نہیں سکتے تھے مثلاً پہلی دفعہ ۶۷ء میں جب میں نے یورپ کا دورہ کیا اُس وقت عرب اسرائیل جنگ ابھی تازہ تازہ ہو کر ختم ہوئی تھی اور یورپ میں مسلمانوں کے خلاف بڑا تعصب پایا جاتا تھا۔یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑا پرو پیگنڈہ کیا تھا چنانچہ ہالینڈ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک کیتھولک نوجوان صحافی سوال کرنے لگا۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ وہ میرے ساتھ بات بڑے احترام سے کرتے تھے ویسے تو وہ آزاد ہیں وہ اپنے بڑے بڑے لوگوں کو کچھ نہیں سمجھتے۔میں تو الحَمدُ لِلہ پڑھتا تھا کیونکہ ایک عاجز انسان ہوں بہر حال وہ بڑے ادب سے بات کرتے تھے۔اس صحافی نے بھی بات تو بڑے ادب سے کی لیکن اس کی آنکھوں میں شوخی تھی۔اُس نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ ہمارے ملک یعنی ہالینڈ میں آپ اس وقت تک کتنے لوگوں کو مسلمان بنا چکے ہیں۔وہ سمجھتا تھا کہ میں یہ جواب دوں گا کہ چند درجن۔تو اس سے ان سارے صحافیوں پر جو یہاں بیٹھے ہیں۔پر یہ اثر پڑے گا کہ یہ تو کوئی کامیابی نہیں ہے اتنے بڑے ملک میں جہاں ملینز آبادی ہے اس میں چند درجن لوگ احمدی مسلمان بن گئے ہیں تو کیا ہے۔اب یہ پہلی دفعہ سوال سنا۔اللہ تعالیٰ ہی ایسے سوالوں کا جواب دل میں ڈالتا ہے چنانچہ اسی