خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 518 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 518

خطبات ناصر جلد سوم ۵۱۸ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء تدبر کرے گا ( جس کی طرف قرآن کریم میں بار بار توجہ دلائی گئی ہے ) تو اس کی عقل اس نہج پر نشوونما پائے گی کہ دنیوی میدان میں بھی، دنیا کے مسائل میں بھی اگر انسان فکر اور تدبر کرے گا تو صحیح نتیجہ پر پہنچ جائے گا۔ویسے یہ عقل جو ہے اس کا تو یہ حال ہے کہ بڑے بڑے عقلمند کہلانے والے سوچتے اور غور تو کرتے ہیں مگر بسا اوقات غلط نتائج پر پہنچ جاتے ہیں بڑے بڑے چوٹی کے ماہرین آج ایک بات کہتے ہیں اور دس سال کے بعد ان سے بھی بڑا عقل کا ایک اور دعویدار کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ بالکل بیوقوفی کی بات کر گئے ہیں اور یہ بات ہر سائنس میں ہمارے مشاہدہ میں آتی ہے لیکن قرآن کریم کے اصول پر جس عقل کو جس دماغ کو سوچنے اور قرآن کریم کی بتائی ہوئی نہج پر غور کرنے کی عادت پڑ جائے اس کے لئے دنیا میں بھی ٹھوکر کھانے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے ویسے انسان انسان ہے وہ ٹھو کر تو کھائے گا لیکن دوسروں کی نسبت خطرہ کم ہو جائے گا۔بہر حال قرآن کریم کی شریعت عقل کو جلا دینے والی ہے۔اگر کسی نے ٹھوکر کھائی ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے قرآن کریم ذمہ وار نہیں ہے۔اُس نے خود کہیں نہ کہیں قرآن کریم کے طریق کو چھوڑا اور اس کے نتیجہ میں ٹھوکر کھائی ہے۔رهَق کے تیسرے معنے جہالت اور کم علمی کے ہیں۔لَا يَخَافُ رَهَقًا میں قرآن کریم کے متعلق یہ اعلان ہو گیا کہ یہ علم کا نہ ختم ہونے والا سمندر ہے اور جب یہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے تو پھر اس کو جہالت اور کم علمی کا خوف کیسے ہو گا۔ہر زمانہ اور ہر ملک کو اس طرف توجہ دلائی کہ زمان و مکان کے بدلے ہوئے اور مختلف حالات میں یہ قرآنِ عظیم تمہاری کامل رہبری کے لئے کافی ہے آب و ہوا کے لحاظ سے غذا ئیں مختلف ہو گئیں۔پھر مختلف غذاؤں کے نتیجہ میں انسان پر ان کے اثرات مختلف ہو گئے اور اس کے نتیجہ میں بعض جگہ بعض اخلاق کی نگرانی کی زیادہ ضرورت پڑ گئی اور بعض اخلاق کی طرف ( بعض دوسرے اخلاق کی نسبت ) زیادہ توجہ دے کر ان کی نشو ونما کی ضرورت پڑ گئی اور اس طرح ملک ملک میں فرق آجائے گا پھر زمانہ ہے ، وہ تو واضح ہے کہ جو آج کے مسائل ہیں وہ سو سال پہلے کے مسائل نہیں اور جو آج کے مسائل ہیں وہ ہزار سال بعد کے مسائل نہیں ہوں گے۔