خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 488
خطبات ناصر جلد سوم ۴۸۸ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۱ء رہنے کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے وہ یہ نہیں سوچتا کہ میر اسانس میری زندگی کا سانس ہے بلکہ اسے نظر آ رہا ہے کہ میرا وہ سانس میری زندگی کا سانس ہے جس کے متعلق خدا چاہے کہ وہ میری زندگی کا سانس بنے۔وہ دیکھ رہا ہے کہ غذا جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی منشاء اور اس کے حکم کے بغیر ہمارے جسموں کو صحت اور تر و تازگی نہیں بخشتی اور طاقت نہیں دیتی جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو اس کے سامنے روز مرہ یہ نظارے آتے ہیں کہ کھانا کسی آدمی کی موت کا موجب بن گیا یا پانی جس کو آب حیات کہا جاتا ہے یعنی وہ ہمارے لئے زندگی کا پانی ہے اور روٹی سے بھی زیادہ ضروری ہے وہ کسی انسان کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔ڈاکٹر جانتے ہیں ، اطباء جانتے ہیں کہ بعض دفعہ انسان کو پانی پی کر اس قسم کا قولنج پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ( رمضان کی ) عبادت خاص طور ایسی ہے کہ اس سے روحانی قومی میں تیزی پیدا ہوتی ہے۔تنویر قلب پیدا ہوتا ہے۔اس کے بعد انسان کے دماغ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میرا رب مجھے کیسے مل سکتا ہے یعنی یہ خیال تبھی پیدا ہو گا جب اس نے صحیح سمت کو قدم اُٹھا لیا۔ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمہارے قریب ہوں۔کیا تم میری قدرتوں کو نہیں دیکھتے ؟ میں تمہاری ہر احتیاج پوری کرتا ہوں۔تمہارا سانس لینا، تمہاری بینائی تمہاری شنوائی یہ سب میرے حکم اور میری اجازت سے قائم ہیں۔میری تمہیں ضرورت ہے تمہاری آنکھ، ناک، کان ، دل اور دل کی صحیح حرکت سب میرے حکم میں بندھے ہوئے ہیں۔ویسے ہما را دل بھی حرکت کر رہا ہوتا ہے مگر ایسے بیمار لوگوں سے ڈاکٹر کہتے ہیں تیز دوڑے تو مر جاؤ گے۔ہمارے ملک میں بعض قصاب اس قسم کے ”مرے ہوئے زندہ جانور جن کے اندر کوئی جان نہیں ہوتی ذبح کر کے انسانوں کو کھلا دیتے ہیں۔دیر کی بات ہے ایک دفعہ میں لاہور جارہا تھا راستے میں ایک بہت سارا جو کوئی پچاس ،سو گائے بھینسوں کا مذبح خانے کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔مذبح خانے کا اندازہ اس بات سے ہوتا تھا کہ ان کی ہڈیاں نکلی ہوئی تھیں اور دیکھنے میں وہ نیم مردہ نظر آ رہے تھے میں خود موٹر چلا رہا تھا۔مجھ سے غلطی ہوگئی کہ جب میں نے ہارن دیا تو ایک بیل جو دل کا زیادہ ہی کمزور تھا وہ ہارن سن کر