خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 487
خطبات ناصر جلد سوم ۴۸۷ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۱ء میں ایک نمایاں چیز جو ہمیں نظر آتی ہے وہ جسمانی ضرورتوں سے انقطاع کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا اور اس میں محو ہونے کی کوشش کرنا ہے۔ہمارے کھانے پینے کے اوقات بھی ۲۴ گھنٹے کا کچھ حصہ لے جاتے ہیں لیکن اگر صحیح طور پر روزے کا استعمال ہو اور یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بعض لوگ تو رمضان میں شاید موٹے ہو جاتے ہیں۔صبح و شام خوب پر اٹھے کھاتے ہیں اور اس وہم میں کہ کہیں کمزور نہ ہو جائیں عام غذا کی نسبت رمضان میں زیادہ کھانے لگ جاتے ہیں۔ان کی یہ بات بھی غلط ہے لیکن وہ لوگ جو روح رمضان کو سمجھتے اور اس کے مطابق اپنی جسمانی ضرورتوں کو پیچھے ڈال کر روحانی ضرورتوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنے روحانی قومی کو تیز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے نتیجہ میں (ایک اصطلاح ہے کہ ) تنویر قلب ہوتا ہے۔جس کا مطلب یہی ہے کہ روحانی قومی تیز ہو جاتے ہیں چنانچہ یہ آیت جو میں نے شروع میں رمضان کے تعلق میں پڑھی ہے۔اللہ تعالیٰ اسی وجہ سے اس میں فرماتا ہے کہ اِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّی یعنی روحانی قوی کی تیزی کے بعد پہلا سوال ہی یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذہب کا یہ دعویٰ ہے کہ مذہبی احکام پر چل کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک پختہ اور زندہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے تو رمضان کی عبادتوں کے نتیجہ میں انسانی ذہن یہ کہے گا کہ رب کو کیسے پایا جا سکتا ہے تب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تمہارے روحانی قومی تیز ہوں گے تو تمہیں نظر آ جائے گا کہ میں تمہارے بالکل قریب ہوں مگر جو شخص خدا تعالیٰ کو پہچانتا نہیں اور اس کے روحانی قویٰ میں نشو و نما نہیں ہوئی۔اسے بیماری ہے یاوہ صحت مند نہیں ہے اس کی روح کسی دوسری طرف متوجہ ہے ایسے شخص کو تو نظر نہیں آتا لیکن جس کو نظر آئے یا جسے اللہ تعالیٰ کا عرفان اور معرفت حاصل ہو جائے ، وہ تو اپنے رب کو اتنا قریب پاتا ہے کہ واقع میں اس سے زیادہ قریب وہ کسی اور چیز کو محسوس نہیں کرتا۔اسے یہ نظر آرہا ہوتا ہے کہ ربوبیتِ باری کے بغیر وہ زندہ ہی نہیں رہ سکتا، صحت کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا، اپنے قومی کونشو نما نہیں دے سکتا۔اسے رب کی ربوبیت کی ضرورت ہے اور ربوبیت کے لئے اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات جلوہ گر ہوتی ہیں مثلاً وہ حتی بھی ہے اور قیوم بھی ہے کوئی وجود ظہور پذیر نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے اور کسی زندگی کو بقاء نہیں رہ سکتی جب تک کہ خدا تعالیٰ کی مرضی نہ ہو پس اسے نظر آتا ہے کہ حیات کا سر چشمہ اور قائم