خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 464
خطبات ناصر جلد سوم ۴۶۴ خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۷۱ء بات نہیں کروں گا۔صرف مالی قربانی کی بات کروں گا۔میں نے پہلے بھی ایک موقعہ پر بتایا تھا کہ ۱۹۴۴ء تک بیرونِ پاکستان کی جماعتوں کے چندے یعنی مالی قربانی قریباً صفر تھی۔استثنائی طور پر شاید آپ کو کہیں نظر آ جائے تو آ جائے ورنہ صفر تھی چنانچہ بیرونِ پاکستان کی احمدی جماعتوں نے پہلی بار ۴۵ء میں مالی قربانی دینی شروع کی یعنی پہلی بار ان کی مالی قربانی ۱۹۴۵ء میں ہمارے سامنے آئی اس وقت ان کا پھیلاؤ زیادہ ہے۔بہر حال جو چیز ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی جماعتوں سے ان کی مالی قربانی اگر زیادہ نہیں تو برابر ضرور ہو گی وہ ہم سے بہت پیچھے (یعنی ۴۵ ء میں ) آئے اور اب وہ ہم سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمارے پہلو بہ پہلو تو وہ اس وقت تک پہنچ چکے ہیں۔اس سال ( مجھے فکر تو نہیں لیکن میرا فرض تھا کہ میں جماعت کو توجہ دلا تا البتہ ) نظارت بیت المال کو فکر تھی کہ بجٹ کے مطابق چندے اتنے نہیں آرہے جتنے اس وقت تک آنے چاہیے تھے۔میں نے ان کو ایک دن سمجھایا تھا کہ فکر نہ کرو ملک میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلی بار انتخابات ہورہے ہیں ایک ہنگامہ بپا ہے۔ذہنوں میں ایک ہیجان ہے۔گو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ چندوں کی ادائیگی میں کمی لوگوں کی سستی کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن بہر حال کچھ توجہ انتخابات کی طرف بھی ہو گئی ہے۔اب جب ہم ان سے فارغ ہوں گے تو پھر ایک رد عمل پہلے سے زیادہ شدید ہو گا اور وہ رد عمل پیدا ہونا چاہیے ورنہ جماعت پر ایک دھبہ لگ جاتا ہے۔اس وقت بجٹ کے لحاظ سے جتنی آمد ہونی چاہیے اس سے قریباً پانچ ، ساڑھے پانچ لاکھ روپے کم آمد ہوتی ہے اور دو لاکھ سے زیادہ موصیوں کا حصہ آمد کم ہے۔اب جس دل نے انتہائی پیار کے ساتھ اپنی آمد کا دسواں حصہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا ہے، اُس پر ہم بدظنی تو نہیں کر سکتے البتہ کئی مجبوریاں ہوتی ہیں۔بعض دفعہ ایک چھوٹی سی مجبوری بھی ہاتھ پاؤں باندھ دیتی ہے۔بعض دفعہ ایک بالکل معمولی رسی سے گھوڑے کا پاؤں باندھ دیا جائے جسے وہ ایک ذراسی حرکت سے تو ڑسکتا ہے لیکن گھوڑا اپنے آپ کو بندھا ہوا محسوس کرتا ہے۔بعض دفعہ انسانوں کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے لیکن یہ کیفیت بہر حال دور ہونی چاہیے اور انشاء اللہ دور ہوگی۔