خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 463
خطبات ناصر جلد سوم ۴۶۳ خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۷۱ء ہونی چاہیے بہتوں میں ہوتی ہے اور بہتوں میں نہیں ہوتی۔دوسری طرف شہد کی مکھیوں کی جو ملکہ ہے اسے یہ دھڑکا لگا ہوا ہوتا ہے کہ کہیں ۴۵ دن کے بعد میرا چھتہ مکھیوں سے خالی نہ ہو جائے۔اس واسطے وہ ایک ایک دن میں دو دو ہزار انڈے دے دیتی ہے اور یہ اس کے اپنے وزن سے اڑھائی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی زندگی کے لحاظ سے ایک لگن لگائی ہوتی ہے۔بہر حال ہماری عقل کہتی ہے کہ مکھیوں میں وقت کا ایک احساس پایا جاتا ہے گو مکھی کا جو احساس ہے وہ تو ہمیں معلوم نہیں ہو سکتا لیکن جب ہم اس کی زندگی پر غور کرتے اور اس کا مطالعہ کرتے رہیں تو ہماری عقل اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ اسے وقت کا احساس اور قسم کا ہے اور ہمیں وقت کا احساس اور قسم کا ہے اُخروی زندگی میں وقت کا احساس اور قسم کا ہوگا ہمیں نہیں پتہ کہ وہ احساس کیا ہے؟ لیکن جو بھی احساس ہوگا ، اس میں ایک وقت کے بعد جو دوسرا وقت آئے گا، وہ پہلے سے بہتر ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کے قرب کے درجات غیر محدود ہیں اس لئے انسان کی ترقیات کے درجات بھی غیر محدود ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ اور انسان میں اتنا بعد ہے کہ وہ بُعد تو پانا نہیں جاسکتا لیکن انسان اللہ تعالیٰ کے قریب سے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔میں یہاں کی اس مادی دنیا کا ذکر کر رہا ہوں۔ہر سال خدا تعالیٰ کے بندے ایک نئے امتحان میں سے گذرتے ہیں اور ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کالج کے ایم اے کی کلاسز کی طرح قریباً سارے ہی پاس ہو جاتے ہیں۔یہ بھی خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔اس امتحان کی کامیابی پر اگر چہ ایک انعام بھی ملتا ہے لیکن یہ کامیابی ایک نئے امتحان اور ایک بڑے انعام کا دروازہ بھی کھولتی ہے۔جس نئے امتحان کا دروازہ کھولا جاتا ہے وہ پہلے سے بڑھ کر سخت اور مشکل ہوتا ہے۔وہ زیادہ محنت طلب ہوتا ہے یا مذہبی اصطلاح میں کہیں گے کہ اس کے لئے انسان کو زیادہ مجاہدہ اور زیادہ جہاد کرنا پڑتا ہے اسی واسطے آپ اپنی ( مراد جماعت احمدیہ کی یعنی میری اور آپ کی جو زندگی ہے بحیثیت جماعت) اس زندگی پر غور کریں تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہ فضل نظر آتا ہے کہ جماعت احمد یہ ہر سال پہلے سال سے ہر لحاظ میں زیادہ ترقی کرتی ہے لیکن میں اس وقت ہر لحاظ کی