خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 432
خطبات ناصر جلد سوم ۴۳۲ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء تمہیں اس کی اجازت دے دے گا۔مسلمان بھی عجیب قوم ہے۔اللہ تعالیٰ نے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی شاید نو درخت کاٹے گئے تھے اور یہ کوئی بات نہیں۔یہاں ایک جانگلی جا کر نونو ، دس دس درخت کاٹ دیتا ہے اور اسے اس کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا لیکن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے عجیب دل اور دماغ دیا تھا۔اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ یہ میرے بندے مجھے میں فنا ہیں یہ میری اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرتے۔میں نے کہا ہوا ہے کہ درختوں کو نہیں کا ٹنا چاہیے کیونکہ اگر اس کا رسم و رواج پڑ جائے تو اس سے بنی نوع انسان کو تکلیف ہوتی ہے۔اس واسطے جہاں ضرورت پڑی وہاں یہ کہہ دیا کہ میری طرف سے اجازت ہے چنانچہ حدیثوں کی بجائے خود قرآن کریم میں اس کا ذکر فرما کر اسے بنیادی اصول بنا دیا۔غرض فرمایا کہ تم نے انتقام نہیں لینا میں خود انتقام لوں گا چنانچہ جب یہ سارے اپنی نا سمجھی اور جہالت کے نتیجہ میں ”بے دینوں ( جو کہ حقیقی دین کے حامل تھے ) کے خلاف جمع ہوئے تو خدا نے فرمایا تم نے انتظام نہیں لینا۔میں نے قرآن عظیم میں یہ کہا تھا اكید كیدا آج میں دنیا کے سامنے تمہارے ذریعہ سے اپنی اس تدبیر کا مظاہرہ کرنے لگا ہوں جس میں تمہارے ہاتھ کا کوئی دخل نہیں ہے۔چنانچہ وہ اجتماع جو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے نتیجہ میں عمل میں آیا تھا وہ کسی انسانی دخل کے بغیر راتوں رات غائب ہو گیا۔مسلمانوں کو پتہ ہی نہیں لگا۔صبح اٹھے تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔خدا تعالیٰ نے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شان کی رو سے اپنی ایسی تقدیر چلائی کہ وہ خود ہی بھاگ گئے۔آپ اس پر بھی غور کریں۔ایک ہی قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔انسان دعا کرتا ہے ایک وقت میں اللہ تعالیٰ کی ایک شان نظر آتی ہے۔دوسرے وقت میں اس کی ایک اور شان نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے دین کا مخالف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر آج تک کروڑوں دفعہ شکست کھا چکا اور پتہ نہیں اور بھی کتنی دفعہ اس کو شکست ملے گی لیکن ان کروڑوں موقعوں پر بنی نوع انسان نے اللہ تعالیٰ کے کروڑوں نئے جلوے دیکھے کوئی جلوہ Repeat ( ری پیٹ ) نہیں ہوا۔اسی واسطے قرآن کریم میں گزشتہ انبیاء کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایک نبی کے مخالفین کے متعلق ہم نے یہ عذاب نازل کیا۔دوسرے نبی کے نہ ماننے والوں پر یہ عذاب نازل کیا اور تیسرے نبی کے مخالفین