خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 431 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 431

خطبات ناصر جلد سوم ۴۳۱ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء نے بھی پیشگوئی کی تھی وہ بے دین ہو گیا اور یہ بت پرست اور یہودی اکٹھے ہو کر دین دار بن بیٹھے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا میں ان کو مہلت دوں گا کہ یہ اپنے منصوبوں کو کمال تک پہنچائیں اور مسلمانوں سے فرمایا میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم جتنی میں کہوں اتنی تدبیر کرو تم دعا کرو، تم صبر سے کام لو تم اشتعال نہ دلاؤ تم گالی کے مقابلے میں گالی نہ دو بلکہ دعائیں دو کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی نمونہ تھا۔تم معاف کروالبتہ انتقام لینے اور معاف کرنے کی جو صفت ہے اصل میں یہ دونوں حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی ان صفات کے جلوے جس حد تک اپنے بندوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔اس حد تک ان صفات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔یہی فرق ہے اللہ تعالیٰ کی تشبیہی صفات اور بندوں کی صفات میں مثلاً اللہ تعالیٰ غالب ہے اور مسلمانوں کو بھی اس نے غلبہ بخشا ہے لیکن اس صفت عزیز میں پھر بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے کیونکہ کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔بندے میں اس جھلک کا اور خدا تعالیٰ کی اصل صفات کا۔مثلاً جو سورج کی روشنی ہے اس کا ایک چھوٹے سے آئینہ میں جو عکس پڑ رہا ہے اس عکس کا اصل روشنی کے ساتھ کوئی مقابلہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔اس واسطے ہمارے لئے یہ از حد ضروری ہے کہ توحید خالص کے قیام کے لئے ( میں پھر اپنے پہلے پوائنٹ کی طرف عود کرتا ہوں ) ہم نہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں کسی کو شریک قرار دیں البتہ اس نے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ میری صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ لیکن یہ اس کے ساتھ اس نے ہمیں یہ بھی فرمایا ہے کہ جتنا مرضی چاہو رنگ چڑھا لو تم میرے شریک نہیں بن سکتے۔حد بندی مقرر ہے مثلاً اس نے فرمایا ہے کہ ہر چیز میری نظر میں ہے۔میں ہر چیز کو دیکھتا ہوں لیکن اللہ کی نظر اور بندے کی نظر میں بڑا فرق ہے۔انسان کی نظر محدود ہے۔انسانی آنکھ روشنی کی محتاج ہے لیکن خدا تعالیٰ کی قوت دید کسی روشنی کی محتاج نہیں ہے۔خدا تعالیٰ خود روشنی ہے وہ تو تمام جہانوں کا نور ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انتقام کی صفت کا جب وقت آئے گا میں اس کا جلوہ دکھاؤں گا۔تم بھی اس کا رنگ اپنے اندر پیدا کرو لیکن ابتدائی زمانہ میں تو بالکل اور بعد میں بہت حد تک تمہارے اندر عفو کی صفت کے جلوے نظر آنے چاہئیں۔انتقام لینے کا جب موقع پیدا ہو گا اللہ تعالیٰ