خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 389
خطبات ناصر جلد سوم ۳۸۹ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء دیں گے اس پر کئی غیر احمدی دوست ان کے مقابلے پر کھڑے ہو گئے کہ ہم دیکھیں گے تم کس طرح پھاڑتے ہو پس ایسی لڑائی میں ہم شامل تو نہیں ہوں گے لیکن ملوث سمجھے جائیں گے حالانکہ وہاں کوئی احمدی نہیں لڑے گا کیونکہ لڑنے کا تو نہ ہمیں حکم ہے اور نہ ہمیں ایسی تربیت دی گئی ہے لیکن جن کی توجہ غلبہ اسلام کی اس مہم کی طرف ہوتی ہے ان کو جوش آجاتا ہے اور ہمیں وہاں خاموش ہی رہنا پڑتا ہے۔۵۳ء میں جب کالج پر کئی طرف سے انہوں نے یورش کی تو ایک ایسا گروہ آیا جس نے پتھراؤ کیا تعلیم الاسلام کالج اس وقت لاہور میں ڈی۔اے۔وی کا لج کی بلڈنگ میں تھا چنانچہ جب کالج پر پتھراؤ کیا گیا تو ان کے مقابلے میں ہمارے طالب علموں نے بھی پتھراؤ کیا۔مجھے جب پتہ لگا تو میں بڑا پریشان ہوا کہ انہوں نے احمدیت کی تربیت کے خلاف ایسا کیسے کر دیا؟ دراصل ہمارے کالج کے ہوسٹل میں ۶۰ فیصد طالب علم ایسے تھے جو احمدی نہیں تھے۔جب میں نے تحقیق کی تو مجھے پتہ لگا کہ جن لڑکوں نے جواباً پتھراؤ کیا ہے۔ان میں ایک بھی احمدی نہیں تھا لیکن چونکہ وہ ہمارے درمیان رہتے تھے ہمارے طالب علموں کو دیکھتے تھے ہمارے ساتھ ان کا تعلق تھا انہیں یہ پتہ تھا کہ یہ مظلوم جماعت ہے اس لئے ان کو غصہ آگیا اور جوابی پتھراؤ کیا مگر اس میں احمدی طلبہ ملوث نہیں تھے۔انکوائری کمیشن میں آئی جی انور علی صاحب نے اس بات کو پیش کرایا کہ دیکھیں جی یہ دونوں طرف سے ہو جاتا ہے اس سے زیادہ طیش آجاتا ہے تعلیم الاسلام کالج پر جب حملہ ہوا تو اندر سے بھی پتھراؤ ہو گیا میرے ساتھی میرے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ آپ کو پتہ ہے کہ اس پتھراؤ میں احمدی طلباء شامل نہیں تھے اس لئے ہماری طرف سے یہ مؤقف لینا چاہیے کہ یہ غیر احمدی طلباء کا کام ہے میں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا جنہوں نے پیار کے ساتھ ہمارا ساتھ دیا ہے ہم ان کے خلاف انکوائری کمیشن میں کچھ نہیں کہیں گے ہمیں وہ بد نام کرتے ہیں تو کرتے رہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ طالب علم جو احمدی نہیں تھے ان کو اپنے کالج کے لئے جوش اور غیرت آئی اور انہوں نے ہماری خاطر ایک قدم اٹھا یا بے شک وہ ہمارے نزدیک غلط قدم تھا لیکن ان کے نزدیک تو درست تھا اگر ان کا قدم غلط ہے تو باہر سے بھی پتھر اوا اندر نہیں آنا چاہیے تھا