خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 387 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 387

خطبات ناصر جلد سوم ۳۸۷ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء غالباً / ۲۰ یا ۲۱ تھی لیکن میں نے کہا اسے ۳۰ تک لے کر جاؤ یہ اوسط بڑھی تو ہے لیکن۔۳۰ تک ابھی نہیں پہنچی صرف۔/ ۲۴ تک پہنچی ہے۔دفتر دوم وہ دفتر ہے جس نے دفتر اول کی جگہ لینی ہے اور عملاً خاموشی کے ساتھ لے رہا ہے۔دفتر اول میں حصہ لینے والوں کی تعداد دن بدن کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ نئے تو اس میں شامل نہیں ہور ہے۔دفتر دوم کی تعداد زیادہ ہے اور انہوں نے ان کی جگہ لینی ہے اور پھر دفتر سوم نے دفتر دوم کی جگہ لینی ہے اور پھر دفتر چہارم آ جائے گا اپنے وقت پر جس نے دفتر سوم کی جگہ لینی ہے۔دفتر اول کی اوسط فی کس اور دفتر دوم کی اوسط فی کس میں بڑا فرق ہے۔ایک طرف ۶۴ روپے فی کس اور دوسری طرف۔۲۴ روپے فی کس جس کا مطلب یہ ہے کہ۔۴۰ روپے فی کس کا فرق ہے اور یہ فرق ہمیں فکر میں ڈالتا ہے اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ دفتر دوم میں قربانی کی وہ روح نہیں جو دفتر اول میں پائی جاتی ہے یہ صحیح ہے کہ دفتر دوم والوں کی آمد شروع میں تھوڑی ہوتی ہے مگر انسان ترقی کرتا ہے مثلاً جو دوست گورنمنٹ کے ملازم ہیں ان کی ہر سال ترقی ہوتی ہے جتنی بڑی عمر کے ہوں گے وہ زیادہ تنخواہ لے رہے ہوں گے پھر انسان تجربے میں بھی ترقی کرتا ہے ایک شخص نو کر نہیں لیکن تجارت کر رہا ہے شروع میں اسے تجربہ نہیں یا شروع میں اس کے پاس سرمایہ نہیں تھا پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کے مالوں میں برکت ڈالتا ہے وہ اپنے تجربے میں بھی ترقی کرتے ہیں اور ان کے سرمائے میں بھی ترقی ہوتی ہے، ان کی آمد بھی زیادہ ہونے لگ جاتی ہے یہا اپنی جگہ صحیح ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ۔/ ۶۴ اور / ۲۴ کی نسبت ہمارے دل میں بڑا فکر پیدا کرتی ہے۔اس لئے ہمیں دفتر دوم کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے اور ان کے معیار کو بلند کرنا چاہیے۔دفتر سوم میں بہت سے طالب علم بھی ہیں دفتر دوم میں بھی کچھ ہوں گے لیکن دفتر سوم کی نسبت بہت کم ہیں۔دفتر سوم کا معیار۔/ ۱۳ فیصد تھا۔پھر میں نے کہا اسے بڑھا کر ۲۰ تک لے جاؤ۔یہ بڑھا تو ہے یعنی۔۱۳ سے ۱۵ تک آگئے ہیں لیکن ابھی۔۲۰ تک نہیں پہنچے دفتر سوم کی دوذمہ داریاں انصار اللہ پر عاید ہوتی ہیں ایک یہ کہ دفتر سوم میں زیادہ کم عمر بچے ہیں یا وہ ہیں جن کی احمدیت میں کم عمر ہے یہ ہر دوتربیت کے محتاج ہیں اور ان ہر دو کی تربیت کا کام خدام الاحمدیہ کا