خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 329 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 329

خطبات ناصر جلد سوم ۳۲۹ خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۷۰ء نہیں ہے لیکن جو کلمہ گوکو کافر کہتا ہے اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فر کہہ چکے ہیں ہمیں کہنے کی ضرورت ہی نہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق خود ہی کا فربن گیا۔آپ میں نہ اتنی طاقت ہے اور نہ اتنی بزرگی ہے کہ کسی کو کافر کہہ سکیں۔لیکن آپ میں اتنی جرات بھی نہیں ہونی چاہیے کہ جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فر کہیں آپ اسے مسلمان سمجھنے لگ جائیں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف شوخی ہے۔بہر حال یہ کفر بازیاں سب ختم ہو جائیں گی ہم اس بات سے خوش ہیں ہمیں اس بات پر رونا نہیں کہ آج ایک دنیا جو ہے اس گند میں پھنسی ہوئی ہے ایک دوسرے کو کافر کہہ رہی ہے ہمیں اس کی پرواہ ہی کوئی نہیں کیونکہ ہمارے لئے جو راہ مقرر ہے ہم اس پر گامزن ہیں اور ہم خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بشارت دی ہے کہ یہ تمام فرقے جو ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں وہ ہدایت کو پالیں گے اور وہ ایک روشنی اور صداقت اور اسلام کے حسین چہرہ کو دیکھ لیں گے اور اسلام کے جھنڈے تلے آکر جمع ہو جائیں گے ہم اس بات سے خوش ہیں کہ کفر بازیاں ختم ہو جائیں گی اس دن تک پتہ نہیں کون زندہ رہتا ہے اور کون نہیں جس دن جماعت احمدیہ کو یہ حکم دینا پڑے گا کہ اس گند کے نقش مٹا دو یعنی اس قسم کی کتابیں لائبریریوں سے نکال کر جلا دی جائیں گی جن میں بریلویوں نے دیو بندیوں پر اور دیو بندیوں نے بریلویوں پر اور اسی طرح جتنے فرقے ہیں انہوں نے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے ہیں۔اب تو سیاسی فتوے بھی ان میں شامل ہو گئے ہیں وہ بھی جلا دیئے جائیں گے۔دنیا ان کو بھول جائے گی اس واسطے بھول جائے گی کہ ان کی ضرورت ہی نہیں رہے گی پیار کو یا در رکھنے کی ضرورت ہوگی ہم ایک دوسرے کے ساتھ پیار کریں گے۔دشمنی اور حقارت اور غصہ اور غلط طعنے اور کفر کے فتوے یہ سب کے سب قصہ پارینہ بن جائیں گے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ بشارت ملی اور یہ قوی بشارت ہے یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کو دین واحد پر جمع کریں۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ ہو کر رہے گا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ یہ پیشگوئی پوری نہ ہو۔ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اس بشارت کے پورا ہونے کے راستہ میں روک نہیں بن سکتیں۔