خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 326 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 326

خطبات ناصر جلد سوم ۳۲۶ خطبہ جمعہ ۴ ستمبر ۱۹۷۰ء چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔یہ امر جو ہے کہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو۔عَلى دِینِ وَاحِدٍ یہ ایک خاص قسم کا امر ہے۔احکام اور امر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک شرعی رنگ میں ہوتے ہیں جیسے نماز پڑھو، زکوۃ دو ، خون نہ کرو وغیرہ۔اس قسم کے اوامر میں ایک پیشگوئی بھی ہوتی ہے کہ گویا بعض ایسے بھی ہونگے جو اس کی خلاف ورزی کریں گے جیسے یہود کو کہا گیا کہ توریت کو محرف مبدل نہ کرنا ، یہ بتاتا تھا کہ بعض ان میں سے کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔غرض یہ امر شرعی ہے اور یہ اصطلاح شریعت ہے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں :۔دوسرا امر کونی ہوتا ہے اور یہ احکام اور امر قضا وقدر کے رنگ میں ہوتے ہیں جیسے قلنا ينارُ كُونِي بَردًا ( و ) سلما اور وہ پورے طور پر وقوع میں آ گیا اور یہ امر جو میرے اس الہام میں ہے یہ بھی اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسلمانانِ روئے زمین عَلى دِينِ وَاحِدٍ جمع ہوں اور وہ ہو کر رہیں گے۔ہاں اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں کوئی کسی قسم کا بھی اختلاف نہ رہے۔اختلاف بھی رہے گا مگر وہ ایسا ہو گا جو قابلِ ذکر اور قابل لحاظ نہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ ایک عظیم بشارت ہے اور یہ پوری ہوکر رہے گی۔اب یہ جو تفرقہ ہے نا اور اس تفرقہ کے نتیجہ میں ہمیں جو سوئیاں چھوٹی جاتی ہیں۔اس سے زیادہ تو ہمارا کوئی نقصان نہیں کر سکتے۔بہر حال جو سوئیاں چھوٹی جارہی ہیں وہ تو ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور مستقبل اس حقیقت کو اپنی گود میں لئے دنیا کا مستقبل نہیں بن سکتا کہ یہ تمام فرقے جو مختلف راہوں پر چل رہے ہیں وہ تمام اسلام کے صحیح حسن کے گرویدہ ہوکر مہدی معہود کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے اور واقعہ بھی ہوگا اور اس کی ذمہ واری اس امر میں ہے کہ جمع کرو۔پس ہمیں ہر قسم کی قربانی دے کر اس پیشگوئی کو پورا کرنا ہے۔ل برد اور سلام ہو تو یہ شرع حکم نہیں تھا آگ ٹھنڈی ہوگئی اس کے بغیر چارہ ہی نہ تھا۔