خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 306 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 306

خطبات ناصر جلد سوم ٣٠٦ خطبه جمعه ۲۸ /اگست ۱۹۷۰ء حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کامل کتاب قرآن کریم کی صورت میں نازل ہوئی ہے اس پر ایمان لاؤ۔بعض جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یوم آخرت پر ایمان لاؤ ، آخرت پر ایمان لاؤ، غیب پر ایمان لاؤ۔غرض بہت سی جگہوں پر ایمان کے تقاضوں کو ساتھ ہی بیان کر دیا گیا ہے اور بعض جگہ صرف ایمان یا اس کے مشتقات میں سے کوئی مشتق استعمال ہوتا ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ تمام تقاضوں کو پورا کرو مثلاً اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ہے انتُمُ الْأَعْلُونَ (ال عمران: ۱۴۰) کوئی طاقت تم پر غالب نہیں آسکتی تم ہی دنیا کی سب طاقتوں پر غالب آؤ گے۔اِن كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ۔(آل عمران:۱۴۰) اگر تم حقیقی معنے میں مومن ہو گے۔ایمان کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گے۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ مومن بالله یا مؤمن بالغیب یا مؤمن بالرسل وغیرہ وغیرہ مختلف تقاضے ہیں محض مؤمن کا لفظ استعمال کیا ہے۔ایمان باللہ کے متعلق قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی معرفت پالیتا ہے وہی حقیقی معنے میں مسلم کہلا سکتا ہے اور وہی تمام بشارتوں کا وارث بنتا ہے۔اس ایمان باللہ کی دراصل آگے مختلف شاخیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے وجود کو اللہ کی شکل میں جن صفات کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور اپنے آپ کو جن کمیوں اور عیبوں اور نقائص اور عیوب سے منزہ ہونے کی صورت میں پیش کیا ہے اس کو سمجھنا اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو دنیا کا پیدا کرنے والا اور دنیا کو زندگی دینے والا اور دنیا کو زندہ رکھنے والا اور دنیا کو سنبھالنے والا اور دنیا کے دکھ دور کرنے والا وغیرہ وغیرہ نہ سمجھنا، یہ ایمان باللہ کی ساری تفاصیل ہیں۔اس شکل میں ایمان لانا یہی دراصل اسلام کی جان اور ہماری زندگیوں کی روح ہے اس معرفت کے بغیر دراصل زندگی زندگی نہیں۔بہر حال کچھ مختصر روشنی میں نے پچھلے خطبے میں ڈالی تھی آج میں ایمان بالغیب کے متعلق یایوں کہو کہ میں ایمان بالغیب کے ایک پہلو کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں قرآن کریم میں بڑی تاکید سے