خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 289 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 289

خطبات ناصر جلد سوم ۲۸۹ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء آسمانوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اسی طرح رحمت کا حکم بھی آسمانوں ہی سے آتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کو ذلیل کرنے کے لئے یا کسی کو عذاب پہنچانے کے لئے یا کسی پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنے کے لئے آسمانوں پر فیصلہ کرے تو دنیا کی کوئی طاقت نہ ایسے انسان کو عزت دے سکتی ہے اور نہ الہی عذاب سے اسے بچا سکتی ہے اور نہ عذاب الہی کی گرفت سے اسے چھٹڑ واسکتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں اگر کسی شخص یا کسی قوم یا کسی جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئے تو ساری دنیا اگر اس کے خلاف مخالفانہ کا رروائی شروع کر دے تب بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے جوش میں کمی نہیں آسکتی کیونکہ وہ رحمت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اس کے بندوں کے لئے جوش میں آتی ہے کوئی شخص اس کی رحمت کو روک نہیں سکتا۔اس میں ہمیں صرف اصولی طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات پر پختہ ایمان لانا ضروری ہے ( ایمان کے متعلق میں نے پیچھے دو خطبے دیئے ہیں ابھی چھپے نہیں۔میں نے ان خطبات میں بتایا ہے کہ ( اللہ پر پختہ ایمان کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل ہو اور ہم ان پر پختگی کے ساتھ ایمان لانے والے ہوں۔معرفت کے بغیر ایمان پختہ نہیں ہوتا کوئی یہ نہ سمجھے کہ معرفت کے بعد پختگی ایمان ضروری ہے یہ درست نہیں ہے مثلاً شیطان کو اللہ تعالیٰ کی صفات کی پوری معرفت تھی لیکن پھر بھی اس نے شیطنت کی ، بغاوت کی اور اباء اور استکبار اختیار کیا۔پس معرفت بھی ہو اور پھر پختگی ایمان بھی ہو تب اللہ تعالیٰ کا یہ جو مطالبہ ہے کہ میرے اوپر اور میری صفات پر پختہ ایمان لاؤ وہ پورا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ایک صفت جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے اس پر ہمارا پختہ ایمان ہونا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ عذاب کی گرفت میں لانا چاہے تو نہ کوئی قضا اسے بچا سکتی ہے نہ کوئی سیاست اسے محفوظ رکھ سکتی ہے نہ کوئی دنیا کا منصوبہ اس کی حفاظت کا سامان پیدا کرسکتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئے تو بڑے بڑے دنیا دار لوگ جو مرضی کرتے رہیں کچھ نہیں ہوتا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔جب حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا تو اس وقت کے علمائے ظاہر