خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 266
خطبات ناصر جلد سوم ۲۶۶ خطبہ جمعہ ۷ راگست ۱۹۷۰ء کام جو ہمارے سپر د کیا گیا ہے وہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتا جنون ہی ہے نا جس طرح وہ جنون تھا کہ اکیلے اندر جا کر قلعے کا دروازہ کھول دے گا۔ایک دنیا دار کی نگاہ میں وہ بھی ایک جنون کی بات تھی اور یہ بھی ایک جنون کی بات ہے جب وہ ہم سے یہ سنتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی غریب جماعت جسے مٹانے کے لئے ساری دنیا اکٹھی ہو گئی ہے اور جس کے پاس طاقت نہیں ، روپیہ نہیں اور دولت نہیں دنیوی علوم کے لحاظ سے کوئی بڑے اچھے سکالر نہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہم نے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے جس طرح وہ ( یعنی صحابہ ) کہتے تھے کہ ساری دنیا میں اسلام اب فاتح اور غالب کی حیثیت میں رہے گا صرف منہ سے یہ کہ دینا کہ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کو غالب کر کے چھوڑیں گے یہ تو بالکل بے معنی بات ہے جب تک اس قسم کا ایمان اور ایمان میں اس قسم کی پختگی نہ ہو جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم میں تھی۔اس پختگی کے بغیر تو ہم کام ہی نہیں کر سکتے یہ تو مذاق ہے دنیا کے ساتھ اور اپنے نفسوں کے ساتھ یہ تو شیطان کے ہاتھ میں کھیلنا ہے غرض ایمان کی پختگی کے بغیر ہم اپنی ذمہ داری کو نباہ نہیں سکتے میں نے بتایا ہے کہ ایمان کی پختگی مختلف شعبوں سے تعلق رکھتی ہے اس کی مختلف شاخیں ہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انشاء اللہ پھر بتاؤں گا آج تو الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے چند منٹ میں بنیادی طور پر یہ بات میں نے بتادی ہے اس کی تفصیل میں انشاء اللہ پھر جائیں گے۔谢谢谢 از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )