خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 251
خطبات ناصر جلد سوم ۲۵۱ خطبہ جمعہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۷۰ء مطابق، ہماری ہدایت کے مطابق، ہمارے حکم کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارو گے وہ حسناتِ دارین کا وارث کرے گا اور تم صرف ایک بہتری کے پیچھے پڑ جاتے ہو اس دنیا کی جو مجموعی طور پر جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا کروڑواں اربواں کھر بواں حصہ بھی نہیں کیونکہ اخروی زندگی جو ہے وہ نہ ختم ہونے والی ہے اور اس کی نعمتیں اگر دنیا کی فرض کر لونعمتوں کا ۱٫۴ بھی ہوں تو انٹی سال کی زندگی میں جو نعمتیں اس دنیا کی ملیں ۲۴۰ سال میں اُس دنیا میں وہ نعمتیں مل جائیں گی اور پھر بعد میں بے شمار زمانہ پڑا ہے نعمتوں کے حصول کا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اخروی نعماء کے مقابلہ میں اس دنیا کی نعمتیں اور آرام اور آسائش اور عیش و عشرت جو ہے وہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔نہ ہونے کے برابر ہے لیکن تم اس حقیقت کو بھول جاتے ہو اور خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان قربانیوں کے دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہو جن کا تم سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت اور مدد کے لئے آگے نہیں بڑھو گے تو اس دنیا کی خاطر تم ایسا کر رہے ہو گے اور ہم اس دنیا میں تمہیں عذاب دیں گے۔جس چیز کی تمہیں تلاش ہے وہ تمہیں اس دنیا میں نہیں ملے گی۔إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّ بُكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا تمہیں اللہ تعالیٰ ایک دردناک عذاب پہنچائے گا اور دوسری متعدد جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کا عذاب اس دنیا میں بھی اور اخروی زندگی میں بھی ظاہر ہوتا ہے لیکن یہ سمجھنا کہ تم اگر بے وفائی کرو گے اور نفاق کی راہوں کو اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا منشاء پورا نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر جو ہے اس کے راستے میں روک پیدا ہو جائے گی۔ایسا ہر گز نہیں ہوگا يَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غَيْرَ كُمُ اللہ تعالیٰ تو قادر ہے کہ وہ تمہیں مٹادے گا اور ایک اور قوم لے آئے گا۔وہ قوم تمہاری طرح ایمان کی کمزور اور دل کی منافق نہیں ہوگی۔وہ عاشق ہوگی اپنے رب کی اور پیار کرنے والی ہوگی اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے۔وہ قربانیاں دے گی بشاشت کے ساتھ جن کا ان سے مطالبہ کیا جائے گا اور پھر وہ اس دنیا کی حسنات کے بھی وارث ہوں گے اور اس کی بھی حسنات کے وارث ہوں گے۔لا تضرون شيئًا تم نے کیسے سوچ لیا کہ اللہ تعالیٰ ایک تقدیر اس دنیا میں جاری کرنا چاہے اور تم اس کے رستے میں روک بنو۔تم روک نہیں بن سکتے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہتا ہے