خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 250 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 250

خطبات ناصر جلد سوم ۲۵۰ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۷۰ء آپہنچا۔یہ بڑا اہم کام ہے یہ بنیادی کام ہے دراصل یہی کام ہے باقی جیسا کہ میں نے کہا شاخیں ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو دوسرے کام ہیں اس مقصد کے حصول کے لئے مختلف شاہراہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تیار کی ہیں۔مختلف دروازے ہیں جو اس کے اندر ہمیں لے کر جا رہے ہیں اصل چیز یہ ہے کہ ہم نے تمام انسانوں کو الا مَا شَاءَ الله نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کے بندھن میں باندھ دینا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔جو اسلام سے باہر رہ جائے گا ان کی حالت چوہڑوں چماروں کی طرح ہوگی۔اگر لاہور کی آبادی کا مقابلہ چوہڑوں چماروں سے کریں تو شاید ایک فیصدی ہوں یا دو فیصدی ہوں یہ نہ ہونے کے برابر ہے جو ان کی حیثیت ہوگی اس کام کو کرنے کے لئے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ایک جنون کی ضرورت ہے ایسا جنون جو دنیا کے تمام اصولوں کو تو ڑ کر پرے پھینک دے اور یہ کہے کہ میں ان کا پابند نہیں ہوں میں اللہ کا عاشق ہوں اور میں اپنے اس عشق کے مطابق دنیا میں کام کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جو مضمون بیان کیا ہے وہ لمبا ہے میں اس کے بعض پہلو لوں گا۔اس میں یہ فرمایا ہے کہ جو قوم اللہ تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے اسے بھی یاد دہانی کرانی پڑتی ہے اور اس میں کمزور بھی ہوتے ہیں ان کو جھنجوڑنا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے ایمان کا دعویٰ کیا ہے لیکن جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے اپنے گھروں اور اپنے وطنوں سے نکلو انا قَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ تمہاری طبیعت یا تم میں سے بعض جو ہیں وہ الارض کی طرف جس کے معنے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وطن بھی کئے ہیں۔یعنی وطن کی محبت آڑے آتی ہے۔وہ کہتے ہیں ہم اپنے وطن کو کیسے چھوڑیں اور وطن کی محبت میں ہی گھر، خاندان، بیوی بچے کی محبت شامل ہے۔کیونکہ انہیں محبتوں کا مجموعہ وطن کہلاتا ہے۔وطن کی محبت کوئی علیحدہ چیز تو نہیں ہے کسی کو بیوی بچوں کی فکر ہوتی ہے کسی کو مال و دولت کی فکر ہوتی ہے۔کسی کو کچھ اور کسی کو کچھ۔ان کے اندر فکر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کیفیت نہیں رہتی جس کے نتیجہ میں انسان کے لئے روحانی رفعتوں کی طرف پرواز کرنا ممکن ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے ہم نے جو وعدہ دیا ہے وہ یہ ہے کہ دین اور دنیا کی حسنات تمہیں ملیں گی۔اگر تم ہمارے قول کے