خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 216 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 216

خطبات ناصر جلد سوم ۲۱۶ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء پہنچا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل کیا ہے کہ سترہ دن میں سترہ لاکھ کے وعدے اور دولاکھ سے او پر نقد جمع ہو گیا ہے۔ان وعدہ جات میں سے پنجابی میں جسے پنج دونجی کہتے ہیں یعنی ۲/۵ کی فوری ادائیگی کرنی ہے اور فوری سے میری مراد نومبر تک ہے جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اور مجھے یقین ہے ۲/۵ سے کہیں زیادہ نقد نومبر سے پہلے پہلے انشاء اللہ جمع ہو جائے گا۔لیکن اس کے باوجود جماعت کا یہ نہایت شاندار رویہ ہے یعنی جب آپ اس چیز کو غیر کے سامنے بیان کریں تو پہلے تو وہ اس کا اعتبار ہی نہیں کرے گا اور وہ کہہ دے گا کہ آپ یونہی گپ ما رہے ہیں اور جب اعتبار کرے گا تو حیران ہو گا اس کی سمجھ میں بھی نہیں آئے گا کہ یہ کیا ہو گیا ہے کیا دنیا میں ایسا بھی ہوا کرتا ہے اسلام کے نام پر ایسا ہونے لگ گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا تو مسلمانوں میں سے آپ کے ساتھ وہ لوگ شامل ہورہے تھے جنہوں نے اس کی خاطر کبھی ایک دھیلہ بھی نہیں دیا تھا۔پھر جب وہ احمدی ہو گئے انہوں نے شروع میں آنہ ماہوار دینا شروع کیا، کسی نے چار آنے ماہوار دینے شروع کئے۔کہنے کو تو ایک آنہ یا چار آنے کوئی چیز نہیں لیکن اگر یہ دیکھا جائے کہ اس سے دلوں میں ایک عظیم انقلاب بپا ہو گیا کہ ساری عمر میں کبھی ایک آنہ نہیں دیا تھا لیکن اب ایک آنہ ما ہوار دینا شروع کر دیا۔ساری عمر میں کبھی چوٹی نہیں دی تھی اور اب ہر مہینے چوٹی دینی شروع کر دی۔تو اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عظیم انقلاب کو نمایاں کرنے کے لئے اور ان کے لئے دعاؤں کے دروازے کھولنے کی خاطر اپنے ان صحابہ کا نام اپنی کتابوں میں لکھ دیا آپ کتابیں پڑھیں تو آپ کو پتہ لگے گا کسی نے آنہ دیا کسی نے چوٹی دی اور کسی نے اٹھنی دی اور کتابوں میں ان کا نام درج ہے قیامت تک جب احمدی اُن کتب کو پڑھیں گے تو ان کے لئے دعائیں کریں گے مگر پھر یہی لوگ تھے کہ جب ایک وقت آیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں بیٹھے اور انہوں نے آپ سے روحانی تربیت حاصل کی تو انہوں نے بعض دفعہ اپنی ساری جائیداد آپ کے قدموں پر لا کر ڈال دی کہ یہ لیں۔خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو آپ اسے قبول کریں یہاں ایبٹ آباد میں ایک دوست نے بتایا