خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 212 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 212

خطبات ناصر جلد سوم ۲۱۲ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء۔تو پوں کے مونہوں سے پھول نہیں جھڑتے تھے بلکہ گولے نکلے تھے اور پھر جس طرح ان ملکوں نے تمہیں Expliot (ایکسپلائٹ ) کیا اور پھر جس طرح تمہیں تباہ کیا اس کے متعلق مجھے کہنے کی ضرورت نہیں تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو کیونکہ تم صدیوں سے اس ظلم کا شکار بنے رہے ہو۔اب میں محبت کا پیغام لے کر آیا ہوں لیکن میں تمہیں یہ بتا تا ہوں کہ ہم قریباً پچاس سال سے تمہارے ویسٹ افریقہ میں کام کر رہے ہیں اور اس عرصہ میں ہم نے کبھی تمہاری سیاست میں دلچسپی نہیں لی اور کبھی تمہاری دولت پر حریصانہ نگاہ نہیں ڈالی۔ہم نے یہاں بہت کچھ کما یا جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ہمارے کلینک وہاں بہت کماتے ہیں۔کا تو میں ہمارے کلینک کے پاس پندرہ ہزار پاؤنڈ زیادہ جمع ہو گیا تھا۔ڈیڑھ دو سال ہوئے انہیں یہاں مرکز سے ہدایت کی گئی کہ اس رقم کو اسی ہسپتال کی عمارت پر خرچ کر دو پہلے وہ کلینک تھا اب ایک نہایت شاندار ہسپتال بن گیا ہے چنانچہ اسی طرح کی بیسیوں مثالیں ہیں ہم نے ایک دھیلہ ان ملکوں سے باہر نہیں نکالا۔میرے خیال میں اس وقت تک لاکھوں پاؤنڈ باہر سے لے جا کر ان ملکوں میں خرچ کر چکے ہیں وہاں کی حکومتوں کو بھی اس کا علم ہے اور وہاں کے عوام کو بھی اس کا علم ہے۔پس میں نے کہا کہ ہم پچاس سال سے تمہارے پاس ہیں اور جو بھی یہاں کمایا وہ تم پر خرچ کر دیا باہر سے جو کچھ لائے وہ بھی تم پر خرچ کر دیا۔ہم نے تمہیں سچا اور حقیقی پیار دیا اور اس کے متعلق تم سب کچھ جانتے ہو اور یہ چیز ان پر اثر کئے بغیر نہیں رہتی تھی میں ان سب ملکوں میں اپنی طرف سے بعض چیزیں امتحاناً کیا کرتا تھا۔ان میں سے ایک چیز یہ تھی کہ میں انہیں کہتا تھا تم سوچو اور مسلمان ہو جاؤ مگر کسی ایک نے مجھے یہ نہیں کہا کہ نہیں ہم مسلمان نہیں ہو سکتے یا احمدی مسلمان نہیں ہوتے ہر ایک نے یہی کہا ٹھیک ہے ہم سوچیں گے اور غور کریں گے اور پھر احمدیت اور اسلام کو قبول کرلیں ہم نے ان کے اوپر پیار کا ہاتھ رکھا ہے اور پیار کی کمس کمس جو ہے اس کے وہ عادی ہو چکے ہیں۔دوسروں کو وہ دیکھتے ہیں کہ یہ کتنا پیار کرتے ہیں ہماے مبلغوں کی رپورٹ کے مطابق افریقن یہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ دنیا میں کوئی ایسی قوم بھی پیدا ہو سکتی ہے جو ان کے بچوں کو پیار کرے اور میں نے وہاں ہزاروں بچوں کو اٹھایا ان سے پیار کیا۔ویسے پانچ ، سات سال کے جو تھے انہیں بغیر اٹھائے جھک کر پیار کیا۔یہ دیکھ کران کی عجیب حالت ہوتی تھی