خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 208 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 208

خطبات ناصر جلد سوم ۲۰۸ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء زیادہ پیارا ہوگا اور جو آگے نکل گئے ہیں اپنے خلوص اور قربانیوں میں ، بہر حال ہمارا یہ کام ہے جماعت احمدیہ کے خلفاء کا یہ کام ہے کہ ان کو دوسروں کی نسبت زیادہ عزت اور احترام دیں، پس وہ بھی یہاں آئیں گے جس طرح ہم یہاں سے مبلغ اور پرنسپل وہاں بھجوا ر ہے ہیں وہاں کے لوگ یہاں آئیں گے اور پھر دوسرے ملکوں میں جائیں گے۔ساری دنیا کو پتہ لگے گا کہ وہ حسین معاشرہ پھر دنیا میں قائم ہونا شروع ہو گیا ہے۔جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں اور پھر جب اسلام غالب آیا تو ساری دنیا میں قائم کیا تھا۔ہماری اسلامی تاریخ میں میرے خیال میں درجنوں ایسے بادشاہوں کے خاندان ہوں گے جو حبشی غلاموں سے تعلق رکھتے تھے۔مثال تو اس وقت میں ( وقت کی رعایت سے ) جو بہت ہی حسین اور نمایاں ہے وہ دیتا رہا ہوں۔تین چار موقعوں پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی مثال میں نے بیان کی ویسے حضرت بلال کے ساتھ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی پیار کے سلوک کئے ہیں۔وہ بھی بڑی حسین مثالیں ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے پھر کبھی توفیق دی اور وہاں جانے کا موقعہ ملا تو اور بہت ساری مثالیں دے دیں گے اس دنیا میں اور اس وقت بھی میرے خیال میں پاکستان کے بہت سے سمجھتے ہوں گے کہ انسان، انسان میں فرق ہے۔اسلام تو انسان انسان میں فرق مٹانے کے لئے آیا تھا۔قائم کرنے یا قائم رہنے دینے کے لئے نہیں آیا تھا ایک حبشی اپنے تصور میں لے آؤ جس قسم کا وہ ہوتا ہے (ویسے عملاً وہ ویسا ہی ہوتا ہے ) یہاں انگریز نے ہمارے بچپن میں جو تصور دیا تھاوہ یہ تھا کہ حبشیوں کے ہونٹ لٹکے ہوئے اور نچلا ہونٹ ٹھوڑی کے کنارے تک پہنچا ہوا اور آنکھیں سرخ ہوتی ہیں جس طرح کی شکل وہ شیطان کی بناتے تھے اسی طرح کی شکل حبشی کی بھی بنا دیتے تھے مگر وہاں ایسا نہیں۔الا ماشاء الله بعض اس سے ملتی جلتی شکلیں تو ہیں لیکن اتنی بھیا نک نہیں ہیں ان کے بڑے تیکھے نقوش ( اور اس وقت جو دوست میرے سامنے بیٹھے ہیں عام طور پر ان سے سے ملتے جلتے چہرے ) ہم نے وہاں دیکھے ہیں خصوصاً احمدیوں میں اور پھر دوسرے مسلمانوں میں اس قسم کے بھڈے اور ڈراؤنے نقوش نہیں ہیں البتہ عیسائیوں میں مجھے کہیں کہیں نظر آئے ہیں۔پتہ نہیں اس میں کیا حکمت ہے۔