خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 10 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 10

خطبات ناصر جلد سوم 1۔خطبہ جمعہ ۲ جنوری ۱۹۷۰ء پس خدا کرے کہ جس طرح وہ فرق ہماری طبیعتوں اور ذہنوں نے محسوس کیا کہ جو فرق پچھلے سال کی ابتدا اور انتہاء میں تھا خدا کرے کہ سال رواں کی انتہا ء اپنی رحمتوں میں اس قدر عظیم ہو کہ جس وقت ہم وہاں پہنچیں تو یہ ابتدا جو اللہ تعالیٰ کی بڑی ہی رحمتوں مشتمل ہے یہ جو ہم نے پایا ہمیں اس طرح نظر آئے کہ جس طرح وہ کچھ بھی نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے کتنا فضل کیا کہ ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ اس نے عطا دی وہ بڑی قدرتوں والا اور بڑا پیار کرنے والا ہے۔خدا کرے کہ ہمارے دل اور ہمارے دماغ اور ہماری روح اس سے محبت کریں اور اس کے پیار کے متلاشی ہوں اور اس کی محبت میں ایک دیوانہ اور مست بن جائیں اور خدا کرے کہ وہ ہمیں پہلے سے زیادہ رحمتوں کا اہل پائے اور پھر اپنی بے شمار رحمتیں ہمیں عطا کرے کہ وہ سب قدرتوں والا ہے۔جمعہ کی نماز پڑھانے کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے فرمایا:۔میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کے لڑکے عزیزم ڈاکٹر مرزا مبشر احمد کو اللہ تعالیٰ نے وقف زندگی کی توفیق دی تھی انہوں نے ڈاکٹری کی ، کچھ عرصہ یہاں ہسپتال میں کام کیا اب اللہ کے فضل سے وہ مزید تعلیم کے لئے رخصت پر اپنے خرچ پر انگلستان جا رہے ہیں یہاں سے اُن کی آج روانگی ہوگی اور غالباً کل لاہور سے ہوائی جہاز کے ذریعہ روانہ ہو جا ئیں گے۔میری یہ خواہش ہے اور درخواست ہے کہ آپ بہت دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے علم میں اور ان کی عقل میں برکت ڈالے اور ان کے جذبہ خدمت کو بہت بڑھائے اور اللہ تعالیٰ انہیں وہاں اپنی امان میں رکھے اور امان میں رکھے ہم سب کو جہاں بھی ہم ہوں اور خیریت سے ان کو واپس لائے اور ایک پیار کرنے والے ہمدرد اور غم خوار طبیب حاذق کی طرح انہیں اپنوں اور غیروں کی خدمت کی توفیق ملے۔اب میں دعا کروں گا آپ بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ہر طرح ان کے سفر کو با برکت کرے۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )