خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 199 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 199

خطبات ناصر جلد سوم ۱۹۹ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۷۰ء سے منور کر سکیں۔ہمیں بڑی دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر تو کچھ ہو نہیں سکتا۔جب اللہ تعالیٰ فضل کرے اور اپنے پیار کا جلوہ دکھائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔میں وہاں پانچ ہیڈ آف دی سٹیٹس سے ملا ہوں۔میں ایک غیر ملکی نہ میری ان سے جان نہ پہچان مگر انہوں نے مجھ سے بے حد پیار کیا۔ان پانچ میں سے تین تو عیسائی تھے باقی دو غیر احمدی مسلمان تھے لیکن مجھ سے اس طرح ملتے تھے جیسے ان کا کوئی بزرگ ہو۔میں دل میں حیران بھی ہوتا تھا اورالحمد للہ بھی پڑھتا تھا کہ میں تو بالکل عاجز اور ناکارہ انسان ہوں یہ خدا تعالیٰ کی شان ہے۔ایک جگہ ایک آرچ بشپ نے شروع میں تھوڑی سی شوخی کی تھی ( اس کی تفصیل بڑی لطیف ہے بعد میں کسی وقت بتاؤں گا) لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے دماغ پر ایسا رعب ڈالا کہ واپسی پر مصافحہ کرتے وقت اس طرح جھک گیا جس طرح اپنے سے بڑے بشپ کے سامنے جھک رہا ہو۔اس وقت بھی میرے دماغ میں یہی آیا کہ تثلیث تو حید کے سامنے جھکی ہے یہ خیال نہیں پیدا ہوا کہ یہ شخص میرے سامنے جھکا ہے۔میں تو ایک عاجز انسان ہوں میں نے اس سے اللہ تعالیٰ کی توحید کے موضوع پر باتیں کی تھیں جس سے وہ اتنا مرعوب ہوا کہ چلتے وقت اُسے جھکنا پڑا پس اللہ تعالیٰ تو بے حد فضل کرنے والا ہے۔ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ معرفت یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرتیں کیا ہیں؟ احمدیت کی زندگی کی یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ بے حد رحم کرنے والا ہے وہ بڑا پیار کرنے والا اورا اپنی بے شمار نعمتوں سے نواز نے والا ہے اگر ہم پھر بھی الحمدللہ نہ کہیں تو ہم بڑے ہی بدقسمت ہوں گے۔پھر تو وہ آگے جائیں گے جو الحمد للہ کہنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا کرے اور ہماری نسلوں کی صحیح تربیت کی ہمیں توفیق دے اور ہمیں یہ بھی توفیق دے کہ ہم ہمیشہ سابقون میں رہیں کسی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔روز نامه الفضل ربوه ۲۰ اگست ۱۹۷۰ء صفحه ۲ تا ۷)