خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 198 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 198

خطبات ناصر جلد سوم ۱۹۸ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۷۰ء خفا نہ ہو جائے۔جس خوف کا ہم نام لیتے ہیں وہ یہی خوف ہے ( سانپ والا خوف نہیں ) یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف ہے۔معرفت کے نتیجہ میں جو دوسری چیز پیدا ہوتی ہے وہ محبت ہے کیونکہ حسن بھی نظر آیا اور احسان بھی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! میں تم پر بے شمار نعمتیں نازل کرتا ہوں۔موسلا دھار بارش کے قطرے تو گنے جاسکتے ہیں لیکن میری نعمتیں نہیں گئی جاسکتیں پس جب انسان کو اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے جلوے نظر آ جاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی صحیح اور کامل اور حقیقی شناخت پالیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے پھر وہ ہر اس چیز سے دور بھاگتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہوتی ہے اور ہر اس چیز سے پیار کرتا ہے جس کے نتیجہ میں اسے اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل ہوتا ہے پھر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف صحیح معنوں میں مائل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کو حاصل کرتا ہے اس طرح اس کا اللہ تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے اور یہ نجات ہے اسی میں دائمی خوشحالی اور مسرت ہے۔پس افریقہ میں لڑی جانے والی جنگ کو جیتنے کے لئے ہم پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں بہت ساری باتیں میں پہلے بیان کر چکا ہوں مثلاً ”نصرت جہاں ریز روفنڈ قائم کیا گیا ہے ہمیں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے ہمیں ٹیچرز کی ضرورت ہے ڈاکٹروں اور ٹیچروں کو رضا کارانہ طور پر خدمات پیش کرنے کی جو میں نے تحریک کی تھی اس سلسلہ میں شاید ایک بات رہ گئی تھی وہ یہ ہے کہ ہمیں ایسے ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے جن کی بیویاں بھی ڈاکٹر ہوں اور ایسے ٹیچر ز کی بھی ضرورت ہے جن کی بیویاں بھی وہاں کام کر سکیں یعنی وہ بھی بی۔اے، بی ایڈ یابی۔ایس سی بی ایڈ ہوں کیونکہ وہاں بعض جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں مسلمان لڑکی تعلیم میں بہت بچھے ہے اور پردے میں غلو کر رہی ہے۔اس لحاظ سے تو اچھا ہے کہ وہاں بے پردگی نہیں اور بے پردگی سے پردہ میں غلو اچھا ہے لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہاں کی مستورات علم سے (اور علم دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہیں اور ان سے وہ ) محروم ہیں۔ہماری طرف سے یہ کوشش ہورہی ہے کہ ایسے علاقوں میں باپردہ پڑھائی کا انتظام کیا جائے تا کہ اگلی نسل کی بچیوں کو ہم علم کے نور