خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 7
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۲ / جنوری ۱۹۷۰ء کئی سالوں سے فکر تھی ہمارے بعض احمدی انجینئرز نے بڑے ہی اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے۔دوست ان کے لئے دعا کریں ایک مشین تو کراچی میں تیار ہو گئی تھی دوسری مشین جس پر یہاں انجینئر ز لگے رہے ہیں کئی روز متواتر چوبیس گھنٹے انہوں نے کام کیا ہے آخر ایک وہ وقت آیا کہ انسانی جسم تو بہر حال محدود طاقت رکھتا ہے وہCollapse ( کلپس ) کر گیا اور ان کی طبیعت پر بڑا اثر ہوا ہمیں بڑی فکر پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے اللہ تعالیٰ انہیں صحت تو آہستہ آہستہ دے رہا ہے انشاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گے دوست ان کے لئے بھی اور جو دوسرے اخلاص سے کام کرنے والے ہمارے رضا کار ہیں ان کے لئے بھی بہت دعا ئیں کیا کریں۔دعا کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ آپ کے دل میں بھی رضا کارانہ خدمت کا احساس پیدا ہوگا مثلاً جب گھر کا ایک باپ یہ دعا کرے گا کہ اے خدا! اس طرح بے نفس چوبیس گھنٹے تیری رضا کی خاطر یہ کام کرنے والے رضا کار ہیں تو ان پر اپنے بڑے فضل اور بڑی برکتیں نازل کر تو اس متضرعانہ دعا کے عین درمیان اسے یہ خیال پیدا ہو گا کہ اس دعا سے میرے وہ بچے محروم ہیں جن کو میں نے گھر میں بٹھا لیا تھا اور رضا کارانہ خدمت کے لئے نہیں بھیجا تھا۔پس اس دعا کے نتیجہ میں ہمیں زیادہ تربیت یافتہ اور زیادہ اخلاص سے کام کرنے والے اور رضا کا ربھی مل جائیں گے اور پھر جن کا حق ہے کہ انہوں نے ہماری طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمانوں کی خدمت کی ہم اللہ کے حضور کہیں کہ اے خدا! تو ان پر زیادہ سے زیادہ فضل اور رحم کر اور پاحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(النَّحل: ۹۸) مجموعی طور پر جو سب سے اچھے کام کرنے والے رضا کاراس جلسے میں تھے سارے رضا کاروں کو اسی کے مطابق جزا دے دے ایک جان ہو کر سارے کام کر رہے تھے۔یہ بھی بڑا فضل ہے اتنے بڑے مجمع کے لئے سوائے ان مزدوروں کے یا ان غیر احمدی نانبائیوں وغیرہ کے بعض ایسے کام ہوتے ہیں جن کے لئے احمدی ملتے نہیں یا بعض ایسے کام ہیں کہ احمدی ہیں اور بڑے تھوڑے کام ہیں جن میں ہم سمجھتے ہیں کہ ان کو پیسے ملنے چاہئیں ان سے رضا کارانہ خدمت نہیں لینی چاہیے ان کے علاوہ ہزاروں آدمی دن رات لگے ہوئے ہیں نہ اپنی ہوش ہے