خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 168 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 168

خطبات ناصر جلد سوم ۱۶۸ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء شمال مغرب کی طرف ہماری واہ کی جماعتیں ہیں وہ علاقہ وا کہلاتا ہے وہاں بھی ہماری بیسیوں جماعتیں ہیں میں کماسی سے جس روز جارہا تھا ستر میل دوسری طرف ٹیچی من کی مسجد کے افتتاح کے لئے مجھے بتایا گیا کہ وا کے دوسو احمدی بسیں لے کر آج رات پہنچ رہے ہیں یعنی جس صبح کو ہم نے ٹیچی کے لئے چلنا تھا اس سے پہلی رات کو انہوں نے مجھے یہ کہا۔میں نے انہیں کہا کہ اب تو ٹیچی من کا پروگرام ہے اور یہ قریب تھا وہاں کیوں نہیں آئے تو وہ کہنے لگے کہ وہ رستے ٹھیک نہیں یہ اچھا راستہ ہے چنانچہ وہ کماسی پہنچ گئے میں نے ان سے کہا کہ ان سے کہو پھر انتظار کرو میں ستر میل وہاں گیا وہاں سارے دن کا پرگرام تھا پھر ستر میل واپس آیا مغرب سے ذرا پہلے پہنچے نماز پڑھانے چلا گیا۔سکول میں کئی ہزار آدمی آجا تا تھا مغرب وعشاء میں۔کماسی میں انہیں کہا کہ نماز کے بعد صبح مجھ سے ملیں میں نے یہ خیال نہیں کیا کہ میں تھکا ہوا ہوں مجھے آرام چاہیے میں تو وہاں بمشکل ڈیڑھ دو گھنٹے سوتا تھا وہاں تو مجھے نیند نہ آتی تھی اب آنی شروع ہوئی ہے۔بہر حال وہاں مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اور میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں نے تکلیف اٹھائی کیونکہ میں نے کوئی تکلیف نہیں اٹھائی اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ اس کے باوجود میری صحت اچھی ہوگئی ڈاکٹر کی مجھے ضرورت نہیں پڑی۔بشاش ہنستا کھیلتا میں ان میں رہا ہوں سارا وقت نماز کے بعد میں مردوں سے ملا اور منصورہ بیگم مستورات سے ( منصورہ بیگم کو اللہ تعالیٰ جزا دے انہوں نے بڑا کام کیا میرے ساتھ ) اور ان کی مستورات کی بڑی خدمت کی ہے مثلاً مستورات سے ملنا ملانا ور نہ ان کی سیری نہیں ہوتی بہر حال مجھے خیال آیا کہ کئی سو میل سے آئے ہیں زیادہ وقت میرے ساتھ رہ نہیں سکے صبح ہی انہوں نے واپس چلے جانا ہے یہی گھنٹہ دو گھنٹہ ہیں جو بیٹھ سکتے ہیں میرے ساتھ۔دوسروں کی نسبت جن کو زیادہ وقت ملا ہے یہ زیادہ مستحق ہیں۔میں ان کے لئے کیا کروں کہ ان کا حق ادا ہو جائے پھر مجھے خیال آیا کہ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ میں معانقہ کروں گا چنانچہ سوا سو آدمیوں کے ساتھ میں نے معانقہ کیا اور پھر تقریر کی۔اس موقعہ پر ان کی زبان بولنے والا کوئی ایسا شخص نہ تھا کہ میری انگریزی زبان کا ترجمہ کر دیتا پھر بڑی مشکل پیش آئی۔میں تو بہر حال انگریزی بولتا تھا اور ہمارے مبلغ کو بھی وہ زبان نہیں آتی تھی پھر پتہ لگا کہ عربی سمجھنے