خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 157 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 157

خطبات ناصر جلد سوم ۱۵۷ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء رنگ میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کی حمد کرنی چاہیے کہ جماعت پر اس نے کتنے فضل کئے ہیں۔اب اتنے بے نفس لوگوں میں چند نفس پرست بھی ہوں تو بڑی نمایاں ہو جاتی ہے ان کی بدی کہ ایک طرف وہ ہے کہ جس کا نفس باقی نہیں اور ایک طرف وہ ہے کہ جس نے نفس کا کوئی حصہ بھی اللہ کی راہ میں قربان نہیں کیا اور ایک انسان جس کے کان میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز پہنچی دورود تھی کہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم “ (الكهف : ااا) کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔اس کے کان میں ہمارے مبلغ کی یہ آواز پہنچی کہ تم اتنے ذلیل ہو کہ اگر میں تمہارے ساتھ بیٹھوں تو میری بے عزتی ہو جائے پس حقیقتا ایسا ذہن جو ہے وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باغی ہے کہ آپ کی آواز تو ایک افریقن کے کان میں یہ پہنچتی ہے کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں اور تم میرے جیسے انسان ہو لیکن ایک مبلغ منسوب تو ہوتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور کہتا یہ ہے کہ تمہارے ساتھ میرا بیٹھنا بھی میری بے عزتی ہے یہ خالص شیطانی فقرہ ہے جو فرعون کے منہ سے تو نکل سکتا ہے لیکن ایک شریف انسان کے منہ سے بھی نہیں نکل سکتا کجا یہ کہ احمدی مبلغ کے منہ سے نکلے ! پس جامعہ احمدیہ کو اپنی فکر کرنی چاہیے جامعہ احمدیہ میں ( مجھے رپورٹ ملی ہے میں نے تحقیق ابھی نہیں کی کہ بعض ایسے اساتذہ بھی ہیں جنہوں نے اپنی کلاس میں یہ کہا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو تفسیر کی ہے وہ غلط ہے اور میں تمہیں صحیح تفسیر بتاتا ہوں ایسا استاد جامعہ احمدیہ کی کیسے تربیت کر سکتا ہے؟ پھر تو وہ اس شخص کے خلاف بھی بغاوت کریں گے، خدا کے خلاف بھی بغاوت کریں گے کیونکہ بغاوت کا سبق ان کو جامعہ احمدیہ میں دیا گیا ہے خدا کو نہ ایسے استاد کی ضرورت ہے اور نہ ایسے شاگرد کی ضرورت ہے پس جامعہ احمدیہ کو اپنی فکر کرنی چاہیے اور جماعت کو جامعہ احمدیہ کی فکر کرنی چاہیے پھر جب فارغ ہو جاتے ہیں تو بعض تو ہماری غلطیاں ہیں اس حقیقت کو ہمیں تسلیم کرنا چاہیے۔ایک نیا نیا نو جوان فارغ ہوتا ہے ہم اسے باہر بھیج دیتے ہیں اس کی نہ کوئی تربیت کی نہ ہم نے اس کے ذہن کو Polish ( پالش ) کیا وہ باہر جا کر غلطیاں کرے گا ہم بھی اس کے ذمہ دار ہیں کیونکہ اس وقت تک دستور یہ رہا ہے کہ اگر جامعہ احمدیہ سے آٹھ شاہد کا میاب