خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 102
خطبات ناصر جلد سوم ۱۰۲ خطبہ جمعہ ۱/۲۴ پریل ۱۹۷۰ء طاقتوں والا ہے۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور مقام کو ظاہر کرنے کے لئے بلند کی گئی تھی۔(اس پر آمین آمین کی آوازیں بلند ہوئیں ) بنی نوع انسان اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھول چکی تھی لیکن بنی نوع انسان کو آپ کی رحمت اور مدد کی ضرورت تھی جس کے بغیر وہ اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے سے نہیں بچ سکتی تھی۔جب وہ آواز بلند ہوئی تو ساری دنیا اس آواز کو خاموش کرنے کے لئے کھڑی ہو گئی لیکن انسان کی متحدہ سازش اور طاقت اس آواز کو خاموش نہ کر سکی۔اللہ کے فرشتے آسمان سے اُترے کہ اس کی حفاظت کریں اور اس کی تائید کریں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچا ئیں۔جب میں نے آپ کو اللہ تعالیٰ کی تعریف اور حمد کے ترانے گاتے دیکھا اور سنا تو میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ وہی آواز ہے جو آپ کے مونہوں سے صدائے بازگشت کی طرح ٹکرا کر بلند ہو رہی ہے۔آپ احمدیت کی سچائی کا زندہ ثبوت ہیں یاد رکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت مسلمان جاگنے کی کوشش کر رہے تھے وہ تنظیمیں اور ایسوسی ایشنیں بنا کر اپنے رنگ میں مسلمانوں کی مدد کر رہے تھے اور ان کی دنیاوی مشکلات کو حل کرنے میں کوشاں تھے لیکن آپ ہمیشہ یادرکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی نئی ایسوسی ایشن یا کلب قائم کرنے کے لئے تشریف نہیں لائے تھے۔آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اپنی جماعت کے قیام کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ کی پوری قدرت اور طاقت آپ کی پشت پر تھی۔پس آپ کی خوشی اور اس کا اظہار بالکل حق بجانب ہے آپ مجھ سے ملے اور مجھے دیکھا اور میری دعائیں لیں اس لئے آپ کو پورا حق ہے کہ آپ خوش ہوں جیسا کہ میں نے کہا ہے میں ہر احمدی کو احمدیت کی سچائی کا ثبوت سمجھتا ہوں اور آپ کا اسلام کے مقاصد کے حصول میں شغف آپ کے اخلاص اور ایمان کا آئینہ دار ہے۔آپ ثبوت ہیں اس بات کا کہ ہر وہ چیز صحیح اور خیر ہے جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے اس لئے ہمیں ان ذمہ داریوں کو جانا اور سمجھنا چاہیے جو ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہیں۔ہمارے سامنے ایک اس سے بھی شاندار مستقبل ہے اور اسی کے مطابق بہت بڑی قربانیوں کی بھی ضرورت ہے اگر ہم اپنی ذمہ داریاں صحیح معنوں میں ادا کریں تو ہم اللہ تعالیٰ کے ایسے فضلوں کے وارث ہوں گے جن کا آج ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔اسلام