خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 981
خطبات ناصر جلد دوم ۹۸۱ خطبہ جمعہ ۱۴ نومبر ۱۹۶۹ء کہ بعض بچوں کو انہوں نے اپنی طاقت کے مطابق چوٹی ، اٹھتی ، روپیہ یا دو روپیہ دئیے ہوتے ہیں وہ انہیں خرچ نہیں کرتے اور اور رقم مانگ لیتے ہیں۔انہیں ماں باپ کہتے ہیں جو پیسے ہم نے پہلے تمہیں دیئے تھے وہ خرچ کر لو پھر ہمارے پاس آجانا اور اور پیسے لے لینا لیکن جب تک تم وہ پیسے خرچ نہیں کرتے اس وقت تک ہمارے نزدیک تمہیں اور پیسوں کی ضرورت نہیں اس لئے ہم تمہیں اور پیسے نہیں دیتے۔اس طرح ہمارا پیار کرنے والا ربّ ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے اور یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس نے ہمیں جو کچھ دیا ہے وہ اس کی راہ میں خرچ کریں اور پھر اس سے دعا کریں۔دعا ئیں تبھی قبول ہوتی ہیں جب انسان پہلے عبودیت کا تقاضا پورا کرے یعنی جو کچھ خدا نے اسے دیا ہے وہ اس کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور پھر اس سے دعا کرے کہ اے خدا جو کچھ ٹو نے ہمیں دیا تھا ہم نے وہ تیری رضا کے حصول کے لئے اور تیرے حکم کے مطابق اور تیری شریعت کی پابندی میں تیرے حضور پیش کر دیا ہے لیکن اس وقت محض ان چیزوں کا تیرے حضور پیش کرنا ہمارے لئے کافی نہیں۔ہمارا انجام بخیر ہونا چاہیے اس لئے تو ہمیں ثبات قدم دے۔استعانت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ اگر آج انسان اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں دے دے اور کل باغی ہو جائے اور شیطان کی طرف جھک جائے تو دو ایک روز پہلے یا ایک سال پہلے جو اس نے خدا کی راہ میں دیا تھا یا دیتا رہا تھا اس کا کوئی فائدہ نہیں۔اس لئے انسان سارا کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے بعد اس سے دو چیزیں مانگے۔ایک یہ کہ ہمیں اور دے اور دوسرے یہ کہ ہمیں ثبات قدم دے تا ہم اسی طرح قربانیاں دیتے رہیں اور ہماری خوش قسمتی بد بختی میں نہ بدل جائے۔ہماری سعادت ، شقاوت میں نہ بدل جائے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ الْحَمْدُ لِله کے مقابلہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے کیونکہ اللہ ہی وہ ہستی کامل ہے جو تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے۔تمام عیوب سے پاک اور منزہ ہے۔وہ ہر قسم کی قدرتوں والی ہے اس کا تصرف ذرہ ذرہ پر ہے کوئی خیر ایسی نہیں جس کا سرچشمہ وہ نہ ہو وہ کسی بدی سے اور بدنتائج اور بدانجام سے بچنا ممکن ہی نہیں۔جب تک کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے اس کا فیصلہ نہ کرے۔یہ ساری باتیں جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے جب ہمارے سامنے آتی ہیں تو ہمارے دل میں اس