خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 980
خطبات ناصر جلد دوم ۹۸۰ خطبہ جمعہ ۱۴ نومبر ۱۹۶۹ء نہ رہے اور اس معنی کے لحاظ سے صبر کے اندر تمام ذمہ داریاں اور ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے ثبات قدم کا حصول اور ان کو پوری ہمت اور عزم کے ساتھ ادا کرنا سب چیزیں آ جاتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم رَبُّ العلمین کی مدد چاہتے ہو تو تمہیں آج تک رَبُّ الْعَلَمينَ نے جو کچھ دیا ہے وہ اس کی راہ میں خرچ کرو۔صلوۃ کا لفظ جو یہاں نمایاں کر کے دیا گیا ہے اس سے مُراد عام عبادت یعنی نماز نہیں۔ایک دعا تو وہ ہے جو تد بیر اور دعا کو بریکٹ کرنے کی کیفیت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔یعنی دعا کرتے وقت انسان خدا کی حمد بیان کرتا ہے اس کی قدوسیت بیان کرتا ہے اور اس کی تمام صفات کو اپنے ذہن میں حاضر رکھتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اے خدا ہم کمزور ہیں ہم حتی الوسع طاقت خرچ کر رہے ہیں۔ہم خلوص رکھتے ہیں اور نیک نیت بھی ہیں۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ ہماری نیتیں نیک ہیں اور ہمارا خلوص واقعہ میں خلوص ہے اور ہماری جو کوشش ہے واقعہ میں مقبول ہونے والی ہے تو ہماری کوششوں کو قبول کر۔اس آیت میں صلوۃ کے لفظ کو جو علیحدہ کیا گیا ہے یہ میرے نزدیک یہ بتانے کے لئے ہے کہ یہ دعا بھی ہونی چاہیے کہ اے خدا تو ہماری دعا کو قبول کر۔پس دعائیں دو قسم کی ہیں ایک دعاوہ ہے جو انسان تسبیح اور تحمید کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر مانگتا ہے اور ایک دعا وہ ہے جو انسان خدا سے مانگتا ہے کہ اے خدا تو ہماری دعاؤں کو قبول کر کیونکہ محض دعا سے ہمیں تسلی نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ قبول نہ ہو۔اسی لئے اس آیت میں صلوۃ کے لفظ کو دوبارہ لایا گیا ہے کیونکہ عام نماز تو صبر کے لفظ کے اندر آ جاتی ہے۔یہاں وہی مضمون نسبتاً وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے جو سورہ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَايَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بیان ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی بڑی لطیف تشریح کی ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ ( ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں ) کا مطلب یہ بھی ہے کہ تو نے ہمیں جو بھی قوتیں اور طاقتیں عطا کی ہیں ہم ان سب کو خرچ کرتے ہوئے تیری عبادت کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص عمل نہ کرے اور صرف دعا کرے تو وہ شوخی دکھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ میں نے جو تمہیں دیا تھا۔اس سے تو تو نے فائدہ نہیں اُٹھایا پھر تو مجھ سے اور کیوں مانگ رہا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ماں باپ بعض اوقات اپنے بچوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک کرتے ہیں