خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 975 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 975

خطبات ناصر جلد دوم ۹۷۵ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۶۹ء ہو اس وقت تک نیک نتیجہ اور بہترین ثمرہ نکل نہیں سکتا جو نکلنا چاہیے اور اگر کوئی شخص ۱۰۱ میل کا مثلاً سفر کر سکتا ہے لیکن راستے میں بہک گیا اور اس نقص کی وجہ سے ادھر ادھر ہوتا چلا گیا اور اس میں طاقت ہی ۱۰۱ میل کا سفر کرنے کی تھی لیکن ۱۰۱ میل کا سفر طے کرنے کی کوشش کے باوجود اپنے اس نقص کی وجہ سے ربوہ نہیں پہنچ سکا۔پس اگر ایسا نقص ہو تو اللہ تعالیٰ اس نقص کو دور کر دیتا ہے اور جب کوشش نا تمام ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے تمام اور کامل کر دیتا ہے اس کو اپنے فضل سے مکمل کر دیتا ہے۔اس کی مدد کرتا ہے۔پس جب تک خدا تعالیٰ کی مدد انسان کے شامل حال نہیں ہوتی اس وقت تک اس کو اپنی کوشش کا ثمرہ نہیں مل سکتا اور ہماری عقل بھی یہی تسلیم کرتی ہے کہ اس کو کوئی ثمرہ نہیں ملے گا۔غرض نجات کے لئے اللہ تعالیٰ کا فضل ضروری ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نجات ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ انسان کا کوئی عمل ایسا نہیں جو ناقص نہ ہو اور کوئی عمل ایسا نہیں جو ادھورا نہ ہو۔انسان کا عمل سو فیصدی مکمل نہیں ہو سکتا اس نقص کو دور کرنے والا ، اس کمی کو پورا کرنے والا ، اس اُدھورے پن کو مکمل کرنے والا دراصل اللہ تعالیٰ ہی کا فضل ہوتا ہے اس لئے جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو انسان کو نجات نہیں مل سکتی اور اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مہینے میں مختلف قسم کی کوششوں اور مجاہدات کو اکٹھا کر دیا ہے۔جسم کا مجاہدہ ہے، زبان کا مجاہدہ ہے، اعمال کا مجاہدہ ہے، خدا تعالیٰ کی یاد میں اوقات بسر کرنے کا مجاہدہ ہے، قرآن کریم پر کثرت سے غور اور فکر اور تدبر کرنے کا مجاہدہ ہے اور بھی بہت سے مجاہدات اکٹھے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دعا کیا کرو۔دعائیں کرنا بھی ایک مجاہدہ ہے۔میں نے ابھی نوافل کے متعلق جو کہا تھا وہ بھی دعا ئیں کرنے کے لئے ہوتے ہیں یعنی سب کوششوں کے بعد خدا تعالیٰ سے یہ دعا کرنا کہ اے خدا! ہم نے اپنی طرف سے اپنی سی کوشش کر لی لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہماری کوشش ناقص ہے اور ہم نے پورا زور لگا یا لیکن ہم مانتے ہیں کہ ہم پورا زور لگا ئیں تب بھی وہ بات نہیں بنتی اور ہم منزل مقصود تک پہنچ نہیں سکتے اس لئے ہم تیرے حضور عاجزانہ طور پر جھکتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد کے طالب ہوتے ہیں۔اے رحیم خدا! ہم پر رحم فرما اور ہماری کوششوں اور سعی اور خلوص نیت میں اگر کوئی نقص ہے تو اس کو دور کر دے۔اگر کوئی کمی ہے تو اس کو پورا کر دے ہماری کوششیں ادھوری ہیں۔