خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 974
خطبات ناصر جلد دوم ۹۷۴ خطبہ جمعہ کے رنومبر ۱۹۶۹ء سے بچا لیتا ہے۔دوسرے یہ ہے کہ انسان کوشش کرتا ہے لیکن اس کی کوشش اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتی۔پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت سے اس کو سہارا دیتا ہے اور اس کی کوشش کو کمال تک پہنچا دیتا ہے۔پس نقص کوئی نہ رہا اور کمال تک پہنچا دیا اور یہ دونوں چیز یں اللہ تعالیٰ کی رحیمیت سے انسان کو حاصل ہوتی ہیں انسان کی اپنی کوشش سے حاصل نہیں ہوتیں کیونکہ انسانی کوشش کسی صورت میں بھی نقص سے خالی نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ ہی کی ایک ذات ہے جس کے اندر کوئی عیب نہیں۔انسان نہ تو بے عیب ہے اور نہ اس کی کوئی کوشش مکمل اور غیر ناقص ہے۔انسان کی کوشش کا نقص سے پاک ہونا ناممکن ہے۔البتہ انسان کی سچی اور پر خلوص کوشش کے نقص کو اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے۔انسان کی کوئی ایسی کوشش نہیں ہو سکتی جو سو فیصدی کمال کو پہنچنے والی ہو۔پس جہاں انسانی کوشش میں کوئی نقص ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی رحیمیت اس نقص کو دور کر دیتی ہے یا جہاں کوشش اُدھوری ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی رحیمیت اس کو کمال تک پہنچا دیتی ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ کا یہ فضل شامل حال نہ ہو انسان نجات کو حاصل نہیں کر سکتا۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نجات اسی کی ہوگی جو خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرے گا۔کوئی شخص اپنی کوشش کے نتیجہ میں نجات حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ کوئی شخص اپنی کوشش کے نتیجہ میں یا اپنی تدبیر کے نتیجہ میں اپنے کسی کام کو مکمل اور بے عیب اور غیر ناقص نہیں بنا سکتا۔اس کی کوششیں سو فیصدی مکمل ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ غفلت سے ، اُونگھ سے اور نیند سے تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پاک ہے انسان پر تو غفلت اور اُونگھ اور نیند طاری ہو جاتی ہے اور یہ اُونگھ اور نیند ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جس طرح جسمانی طور پر اُونگھ اور نیند ہے اسی طرح روحانی طور پر بھی انسان پر اُونگھ اور نیند کے زمانے آجاتے ہیں پس جب کہ انسانی کوششوں پر اونگھ اور نیند کا زمانہ آتا ہے وہ مکمل کیسے ہو سکتی ہے وہ مکمل ہو ہی نہیں سکتی اور یہ ایک بڑی واضح اور موٹی بات ہے کہ جب تک کوئی کام اپنے کمال کو نہ پہنچے اس کی جزامل ہی نہیں سکتی۔مثلاً جو شخص سومیل پیدل چلنے کے بعد ربوہ سے ایک میل کے فاصلے پر آ کر تھک کر بیٹھ گیا وہ ربوہ نہیں پہنچ سکتا۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ۱۰۱ میل کا سفر تھا سو میل طے کر لئے اب یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ ربوہ پہنچ گیا یہ کیسے سمجھ لیا جائے۔عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی اس لئے کہ جب تک کوشش مکمل نہ