خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 963
خطبات ناصر جلد دوم ۹۶۳ خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۶۹ء چشمہ کے محتاج رہتے ہوئے اسی کی طرف لوٹتی ہے۔اللہ ایک مرکزی نقطہ ہے اور کوئی ایسی خوبی نہیں جس کا منبع اور سر چشمہ وہ نہ ہو۔خدا تعالیٰ کی معرفت اور اس کی ذات اور صفات کا عرفان حاصل کرنا ہماری زندگی کا مقصد ہے۔یہی احمدیت کا مقصد ہے یہی اسلام کا مقصد ہے۔یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری عمر کی انتہائی جد و جہد کا مقصد تھا اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض ہے۔پس پروگرام تو وہی ہے لیکن اس کا معیار نہیں گرنا چاہیے بلکہ بلند ہونا چاہیے۔ان مختلف اجتماعات کے فیوض کم نہیں ہونے چاہئیں بلکہ انہیں وسیع سے وسیع تر ہوتے رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر تو کچھ ہو نہیں سکتا۔اسی لئے اسی سے مدد اور نصرت مانگنی چاہیے اسی کے حضور عاجزانہ جھکنا چاہیے کہ اے خدا! تو نے ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ ہم احمدیت میں نئے داخل ہونے والوں کی صحیح تربیت کریں لیکن ہم کمزور بندے ہیں تو ہمیں توفیق دے کہ ہم تیری مرضی اور تیری خواہش اور تیرے ارادہ کے مطابق تیرے ان بندوں کی تربیت ایسے رنگ میں کر سکیں کہ حقیقی معنی میں وہ تیرے بندے بن جائیں اور اے خدا ! تو نے ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ اس ٹور سے ساری دنیا کے دلوں اور سینوں کو منور کریں جو آج اسلام سے دور اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھتے ہیں ان کو اسلام کے حلقہ میں لا کر انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں بٹھا دیں۔ہم کمزور ہیں بے حد کمزور ہیں اور تو بڑی طاقتوں والا ہے تیری ہی طاقت پر ہمارا بھروسہ اور ہمارا تو گل ہے۔پس تو ہماری مدد کو آ۔تو خود ہی ہمارے ہاتھ بن ، ہمارا ذہن بن اور ہماری آنکھ بن اور ہمارے جذبات بن۔خود ہم سے کام لے ہمیں اپنا آلہ کار بنا کہ اس کے بغیر ہم اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا حقیقی بندہ بننے اور اپنی نصرت کو اس طور پر حاصل کرنے کی توفیق عطا کرے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو نباہ سکیں اور اس کی رضا کو اور اس کی خوشنودی کو حاصل کر سکیں۔( روزنامه الفضل ربوه ۱۶ را پریل ۱۹۷۰ء صفحه ۳ تا ۵) 谢谢谢